رحیمہ بی بی کے لرزہ خیز انکشافات ‘فتنہ

رحیمہ بی بی کے لرزہ خیز انکشافات ‘فتنہ

کوئٹہ: بلوچستان میں ‘فتنہ الہندوستان’ کے دہشت گردی کے نیٹ ورک میں خواتین کے استحصال اور اپنوں کی بے وفائی کی ایک لرزہ خیز داستان سامنے آئی ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کی پریس کانفرنس کے دوران گرفتار خاتون رحیمہ بی بی کو پیش کیا گیا، جس نے اپنے شوہر منظور احمد کے بھیانک کرتوتوں کا کچا چٹھا کھول دیا۔
رحیمہ بی بی نے انکشاف کیا کہ اس کا شوہر منظور احمد ایک خاتون کو گھر لایا اور اسے ‘مسافر’ کہہ کر مقیم کرایا۔ رحیمہ کے مطابق     وہ خودکش بمبار خاتون کافی عرصہ ان کے گھر میں مقیم رہی۔
    منظور احمد اپنی بیوی (رحیمہ) کا موبائل فون استعمال کر کے اس بمبار خاتون سے خفیہ رابطے کرتا تھا۔    نومبر میں منظور احمد اس خاتون کو خود افغانستان لے کر گیا، جس کے چند روز بعد ہی ایف سی ہیڈ کوارٹر نوکنڈی پر خودکش حملہ ہوا۔
رحیمہ بی بی نے روتے ہوئے بتایا کہ نوکنڈی حملے کے بعد اس کا شوہر افغانستان فرار ہو گیا اور اسے بھی وہاں بلانے کی کوشش کی۔ تاہم، جب رحیمہ بی بی اور اس کا بھائی زبیر افغانستان فرار ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار ہوئے، تو منظور احمد نے اپنی بیوی کو بچانے کے بجائے انتہا درجے کی بزدلی دکھائی۔ رحیمہ کے بقول   میری گرفتاری کا سن کر میرے شوہر منظور احمد نے مجھے اکیلا چھوڑ دیا اور پیغام بھیجا کہ ‘اسے مار دو، میرا اب اس سے کوئی تعلق نہیں’۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے بتایا کہ اس پورے نیٹ ورک کو کابل میں افغان حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ دہشت گرد اب پہاڑوں سے نکل کر گھروں میں داخل ہو کر خواتین کو آلہ کار بنا رہے ہیں۔ ترجمان بابر یوسفزئی نے والدین کو خبردار کیا کہ     اپنی بیٹیوں کے رشتے طے کرنے سے قبل مکمل چھان بین کریں۔    اپنے بچوں اور گھر میں موجود افراد کی مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔