حکومتی ریلیف اور اربوں کے ترقیاتی منصوبوں کے باوجود JAAC کی ہڑتال کی کال؛ آزاد کشمیر میں عوامی جدوجہد کے نام پر ‘انتشار کی سیاست’ شروع کرنے کا انکشاف

حکومتی ریلیف اور اربوں کے ترقیاتی منصوبوں کے باوجود JAAC کی ہڑتال کی کال؛ آزاد کشمیر میں عوامی جدوجہد کے نام پر ‘انتشار کی سیاست’ شروع کرنے کا انکشاف

مظفر آباد : آزاد جموں و کشمیر میں عوامی مطالبات پر عملدرآمد، بجلی و آٹے پر بھاری ریلیف کی فراہمی اور اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع ہونے کے باوجود جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی جانب سے 9 جون کی ہڑتال کی کال نے خطے کے سیاسی و سماجی حلقوں میں سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ معتبر ذرائع کے مطابق، حکومتی اقدامات کے بعد یہ احتجاج عوامی حقوق کی جدوجہد کے بجائے سیاسی دباؤ اور انتخابی ماحول پر اثر انداز ہونے کی کوشش دکھائی دیتا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جب حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دے، تو احتجاج کو مکالمے میں بدلنا سیاسی بلوغت کی نشانی ہوتا ہے، تاہم موجودہ حالات میں ہڑتال پر اصرار عوامی خدمت نہیں بلکہ چند عناصر کی سیاسی بقا کی ضد محسوس ہوتی ہے۔
خطے کے مقتدر حلقوں کی جانب سے جاری کردہ تجزیے کے مطابق  آزاد کشمیر کے غیور عوام اس وقت امن، روزگار اور استحکام چاہتے ہیں، بندشیں اور ہڑتالیں نہیں۔ جب خطے میں اربوں روپے کے منصوبے آگے بڑھ رہے ہوں، تو ماحول کو پیچھے دھکیلنا اور ترقی کا راستہ بند کرنا کسی بھی صورت عوامی مفاد میں نہیں ہو سکتا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ 9 جون کی ہڑتال کی کال کے پیچھے عوامی درد سے زیادہ سیاسی و انتخابی دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی چھپی ہے۔ مبصرین نے زور دیا ہے کہ آزاد کشمیر کو اس وقت تصادم اور انتشار کی نہیں بلکہ تعمیر، اتحاد اور سنجیدہ قیادت کی ضرورت ہے، اور عوام کو اب نعروں کے بجائے عملی نتائج اور ترقیاتی کاموں کو ترجیح دینی چاہیے۔