بلوچستان ، جنوبی اضلاع سیلاب کی لپیٹ میں، جانی و مالی نقصانات کے بعد گوادر اور پسنی میں ایمرجنسی جیسی صورتحال

بلوچستان ، جنوبی اضلاع سیلاب کی لپیٹ میں، جانی و مالی نقصانات کے بعد گوادر اور پسنی میں ایمرجنسی جیسی صورتحال

کوئٹہ/گوادر: بلوچستان کے جنوبی اضلاع میں 25 مارچ سے شروع ہونے والا بارشوں کا طاقتور سلسلہ تباہی میں بدل گیا ہے، جہاں بپھرے ہوئے سیلابی ریلوں نے بستیوں اور شہری علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کے مطابق، ان حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے نتیجے میں اب تک ایک بچے سمیت 4 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ ایک بچے سمیت 2 افراد زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے ہیں۔
 ضلع کیچ، دشت اور بگدر کے مقامات پر برساتی نالوں میں آنے والی طغیانی نے کئی دیہات کو ڈبو دیا ہے، جس سے 18 مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ گوادر اور پسنی کے گلی کوچے تالاب کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ سیلابی پانی لوگوں کے گھروں اور دکانوں میں داخل ہونے سے کروڑوں روپے کا سامان ضائع ہو گیا ہے۔ متعدد سڑکیں سیلابی ریلوں میں بہہ جانے یا پانی جمع ہونے کی وجہ سے بند ہیں، جس سے امدادی کارروائیوں میں سخت دشواری کا سامنا ہے۔
سیلاب نے جہاں انسانی زندگیوں کو متاثر کیا، وہیں غریب کاشتکاروں کی تیار فصلیں اور جمع پونجی یعنی مال مویشی بھی سیلابی ریلوں کی نذر ہو گئے ہیں۔ مقامی آبادی کھلے آسمان تلے امداد کی منتظر ہے۔
محکمہ موسمیات اور انتظامیہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر بارشوں کا سلسلہ جاری رہا تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔