کراچی :صوبائی وزیرِ اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے منشیات فروش انمول عرف پنکی کی گرفتاری کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرے میں زہر بیچنے والے کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ انہوں نے ملزمہ کو عدالت میں مبینہ پروٹوکول دینے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کا بھی اعلان کیا ہے۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ انمول پنکی ایک خطرناک نیٹ ورک چلا رہی تھی جو ہماری نسلوں کو تباہ کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا، “ہم نے پہلے بھی اس کی گرفتاری کے لیے بہت کوششیں کی تھیں لیکن وہ بچ نکلتی تھی، اب اس کی گرفتاری پر پولیس اور متعلقہ ادارے تعریف کے مستحق ہیں۔” تاہم، انہوں نے عدالت میں ملزمہ کو دیے گئے غیر ضروری پروٹوکول پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ دو ذمہ دار پولیس افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
وزیرِ اطلاعات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت نے ہمیشہ منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات کا خاتمہ صرف حکومت یا پولیس کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک معاشرتی جنگ ہے۔ نئی نسل کو اس لعنت سے بچانے کے لیے تمام طبقات کو مل کر کوشش کرنی چاہیے۔ منشیات فروشوں کے سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
شرجیل میمن نے واضح کیا کہ گرفتاری کے بعد عدالتی مراحل میں کسی بھی قسم کی غفلت یا ملزمہ کو ریلیف دینے کی کوشش کا سختی سے نوٹس لیا گیا ہے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ملزمہ کو اس کے جرائم کی سخت ترین سزا ملے۔