ٹورنٹو: کینیڈا کے 33 سالہ برینٹ چیمپن نے تقریباً بیس سال بعد دوبارہ اپنی آنکھوں سے دنیا کو دیکھنے کا خواب پورا کر لیا — اور یہ سب ممکن ہوا ایک غیر معمولی اور نایاب سرجری کے ذریعے، جس میں ان کی آنکھ میں ان کا اپنا دانت نصب کیا گیا۔
برینٹ محض 13 برس کے تھے جب ایک دوا کے ری ایکشن نے ان کی بینائی کو متاثر کیا، شدید الرجی کے باعث ان کی دونوں آنکھوں کی روشنی مکمل طور پر چلی گئی اور وہ نابینا ہو گئے۔
اگلے دو دہائیوں تک برینٹ مختلف معالجین اور علاج کے طریقوں کی تلاش میں رہے، لیکن کوئی کامیابی نہ ملی۔ شمالی وینکوور سے تعلق رکھنے والے برینٹ کی زندگی اس وقت بدل گئی جب ان کی ملاقات ماہر سرجن ڈاکٹر گریک مولینی سے ہوئی، جو ماؤنٹ سینٹ جوزف اسپتال سے وابستہ ہیں۔ ڈاکٹر مولینی نے انہیں ایک نایاب طریقۂ علاج “ٹوتھ اِن آئی” سرجری کا مشورہ دیا۔
یہ طریقہ علاج پہلی بار 1960 کی دہائی میں سامنے آیا تھا، اور اب تک دنیا بھر میں صرف چند سو افراد پر کامیابی سے آزمایا گیا ہے۔ اس سرجری میں مریض کے دانت کو نکال کر اس میں ایک لینز نصب کیا جاتا ہے، اور پھر اسے آنکھ میں فٹ کیا جاتا ہے تاکہ روشنی ریٹینا تک پہنچ سکے۔
برینٹ کی دائیں آنکھ پر یہ سرجری کی گئی، اور کامیاب آپریشن کے بعد انہوں نے برسوں بعد پہلی بار روشنی، رنگ اور اشکال کو محسوس کیا۔ اس لمحے کو برینٹ نے اپنی زندگی کا “نیا آغاز” قرار دیا۔
انہوں نے جذباتی انداز میں کہا:
“یہ واقعی ایک معجزہ ہے۔ میں دوبارہ دیکھ سکتا ہوں، اور یہ میرے لیے ایک نئی زندگی کی شروعات ہے۔”
ماہرین کے مطابق یہ کامیاب سرجری جدید میڈیکل سائنس کی غیر معمولی پیش رفت اور انسانی عزم کی شاندار مثال ہے۔