کولمبیا :بحیرہ کیریبین کی گہرائی میں موجود 300 سال پرانے ہسپانوی بحری جہاز سان جوز کے ملبے کی جدید ترین تکنیک سے تصویربندی کی گئی ہے، جس کے بعد ماہرین نے جہاز اور اس کے خزانے سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔
سان جوز، جسے تاریخ کا سب سے قیمتی سمندری ملبہ سمجھا جاتا ہے، 1708 میں پیرو سے اسپین لے جایا جانے والا تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کا سونا، چاندی اور زمرد سے بھرا کارگو لے جا رہا تھا۔ تاہم، برطانوی نیوی نے اس جہاز کو ڈبو دیا اور تب سے یہ ملبہ سطح سمندر کے نیچے چھپا ہوا تھا۔
2015 میں کولمبین نیوی نے اس ملبے کی نشاندہی کی تھی مگر اسے سان جوز کے طور پر تصدیق نہیں کیا جا سکا تھا۔ اب جدید زیر آب عکس بندی کی تکنیک کے ذریعے، سطح سمندر سے 600 میٹر گہرائی میں موجود اس ملبے کے سکّوں کی ہائی ریزولوشن تصاویر لے کر ان کے ڈیجیٹل ماڈلز بنائے گئے ہیں۔
محققین نے سکّوں پر کندہ 1707 کی تاریخ واضح طور پر دیکھی ہے جو ثابت کرتی ہے کہ یہ سکّے پیرو سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ انکشاف اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ ملبہ واقعی سان جوز جہاز کا ہے۔
اس ملبے پر کولمبیا، اسپین، امریکا کی ایک کمپنی اور جنوبی امریکا کے مقامی قبائل بھی اپنا قانونی حق جتانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کولمبین حکومت کا موقف ہے کہ 2015 میں ان کے ساحل سے حاصل کیا گیا خزانہ ان کا قانونی ورثہ ہے۔