کراچی : کراچی کے سفاری پارک میں ٹی بی (تپِ دق) کا شکار دو ہتھنیوں مدھو بالا اور ملیکا کا علاج انسانوں جیسے طریقے سے جاری ہے، جنہیں روزانہ 400 سے زائد گولیاں مخصوص طریقے سے دی جا رہی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ گولیاں سیب، کیلے اور میٹھی چیزوں میں چھپا کر دی جاتی ہیں تاکہ جانور آسانی سے دوا نگل لیں۔ دوا کی خوراک ان کے جسمانی وزن (تقریباً 4,000 کلوگرام) کے مطابق مقرر کی گئی ہے۔
ابتدائی دنوں میں ہتھنیاں ادویات لینے سے انکار کرتی تھیں اور عملے سے بدتمیزی کرتی تھیں، تاہم اب رویے میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ سری لنکا سے آئے تجربہ کار ویٹرنری سرجن بدھیکا باندرا علاج کی نگرانی کر رہے ہیں، جو اس سے قبل درجنوں ہاتھیوں کا کامیاب علاج کر چکے ہیں۔‘ ڈاکٹر بدھیکا نے بتایا کہ ہاتھیوں کا ٹی بی علاج دنیا بھر میں مشکل سمجھا جاتا ہے،۔ ’لیکن صبر، مستقل مزاجی اور مہوت کی محنت سے بہتری آ رہی ہے۔سفاری پارک کے مہوت علی بلوچ روزانہ چاول، دال اور گڑ سے گولیاں چھپانے والی گیندیں تیار کرتے ہیں، جنہیں ہتھنیوں کو کھلایا جاتا ہے۔ چار رکنی میڈیکل ٹیم مکمل حفاظتی لباس میں دوا کھلاتی ہے تاکہ ممکنہ جراثیم سے محفوظ رہا جا سکے۔
ان ہتھنیوں کو 2009 میں کم عمری میں تنزانیہ سے کراچی لایا گیا تھا۔ ان کی ساتھی نور جہاں 2023 میں انتقال کر گئی تھی جبکہ سونیا 2024 کے اختتام پر ٹی بی سے ہلاک ہوئی، جس کے بعد باقی دو ہتھنیوں کے ٹیسٹ کیے گئے اور بیماری کی تصدیق ہوئی۔
ڈاکٹروں کو توقع ہے کہ ایک سال تک جاری رہنے والے اس خصوصی علاج سے مدھو بالا اور ملیکا صحتیاب ہو جائیں گی۔ انڈس ہاسپٹل کی متعدی امراض کی ماہر ڈاکٹر نسیم شہاب الدین نے کہا: ’یہ ہمارے لیے بھی سیکھنے کا دلچسپ تجربہ ہے کہ اتنے بڑے جانور میں ٹی بی کا علاج ممکن ہے۔