وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبہ بھر میں گندم خریداری مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سیکرٹری فوڈ سیفٹی پنجاب ڈاکٹر کرن خورشید نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کسانوں کو ریلیف فراہم کرنے اور شفاف خریداری کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اب تک صوبہ بھر میں 44,603 کسان رجسٹرڈ ہو چکے ہیں جبکہ پنجاب کے 233 گندم خریداری مراکز پر کسانوں کی رجسٹریشن کا عمل بلا تعطل جاری ہے۔ ڈاکٹر کرن خورشید کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کیجانب سے کسانوں کو 6 ارب روپے مالیت کا باردانہ مفت فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی گندم محفوظ اور آسانی سے مراکز تک پہنچا سکیں۔ کسان حضرات اپنے قریبی گندم خریداری مرکز پر جا کر شناختی کارڈ، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور دیگر ضروری کوائف جمع کروا کر باردانہ حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کسان کارڈ ہولڈرز اور چھوٹے کسانوں سے گندم کی خریداری کو ترجیح دی جا رہی ہے، جبکہ کسانوں کی سہولت کے پیش نظر اتوار اور دیگر تعطیلات کے دن بھی خریداری کا عمل جاری رکھا گیا ہے۔ سیکرٹری فوڈ سیفٹی نے بتایا کہ خرید کی گئی گندم کی ادائیگی 72 گھنٹوں کے اندر براہِ راست کسانوں کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کر دی جائے گی تاکہ شفافیت اور سہولت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ گندم خریداری کے عمل کی نگرانی کے لیے صوبائی اور ڈویڑنل سطح پر مینجمنٹ کمیٹیاں فعال ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب کے اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ (ایس ایم یو ) کا عملہ تمام خریداری مراکز پر موجود ہے جو کسانوں کی شکایات کا فوری ازالہ کر رہا ہے۔ڈاکٹر کرن خورشید نے مزید کہا کہ کسان بھائیوں کی سہولت کے لیے حکومت پنجاب نے ٹول فری ہیلپ لائن 0800-60606 بھی قائم کر رکھی ہے، جہاں کسی بھی شکایت یا رہنمائی کے لیے فوری رابطہ کیا جا سکتا ہے۔