آسٹریا: ایک نئی تحقیق میں محققین کا کہنا ہے کہ اگر ہم کبھی کسی غیر ارضی تہذیب کا سراغ لگاتے ہیں، تو وہ انسانوں سے بہت زیادہ قدیم ہو سکتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ وہ حالات جو کسی جدید خلائی مخلوق کے وجود کے لیے سازگار ہیں، وہ انتہائی نایاب ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ ایسے کسی سیارے پر جہاں جدید خلائی تہذیب کا وجود ہو، وہ زمین سے تقریباً 33,000 نوری سال دور ہو سکتا ہے۔
اس تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی سیارے پر خلائی مخلوق کا وجود ممکن ہو، تو اس سیارے کی تہذیب کی عمر کم از کم 2,80,000 سال ہونی چاہیے۔ یہ نتائج حالیہ طور پر یورپلانٹ سائنس کانگریس اور امریکن ایسٹرونومیکل سوسائٹی کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیے گئے ہیں۔
آسٹریا کی اکیڈمی آف سائنسز کے محققین نے اس تحقیق میں زمین جیسے سیاروں کی موجودگی کے امکانات کا جائزہ لیا ہے، جن میں پلیٹ ٹیکٹونکس، نائٹروجن اور آکسیجن سے بھرپور فضا، اور مناسب مقدار میں آکسیجن و کاربن ڈائی آکسائیڈ شامل ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ تمام عوامل ذہین خلائی مخلوق کے وجود کے امکانات کو “مایوس کن” بنا دیتے ہیں۔ اسپیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مانوئیل شیرف نے کہا: “ہماری کہکشاں میں ذہین غیر ارضی مخلوقات کا ہونا ممکنہ طور پر بہت نایاب ہے۔”
تحقیق میں بتایا گیا کہ زمین پر زندگی کے ارتقاء کے حوالے سے زمین کی فضا میں نائٹروجن (78 فیصد) اور آکسیجن (21 فیصد) کی غالب مقدار ہے، جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ (0.042 فیصد) بہت کم مقدار میں پائی جاتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ جن سیاروں کی فضا میں زیادہ مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ ہو، وہ زیادہ دیر تک زندگی کے لیے سازگار ماحول قائم رکھ سکتے ہیں، مگر اس کی مقدار میں توازن ضروری ہے۔ بہت زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار زہریلی فضا یا شدید گرین ہاؤس ایفیکٹ کا باعث بن سکتی ہے، جو زندگی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
مزید یہ کہ اگر کسی سیارے کی فضا میں 10 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ ہو، اور وہ اپنے سورج سے دور ہو یا اس کا سورج جوان ہو، تو وہ گرین ہاؤس ایفیکٹ سے بچ سکتا ہے اور وہ سیارہ زندگی کے لیے موزوں ماحول تقریباً 4.2 ارب سال تک برقرار رکھ سکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگر کسی سیارے پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار صرف 1 فیصد ہو، تو وہ زیادہ سے زیادہ 3.1 ارب سال تک زندگی کے لیے مناسب ماحول قائم رکھ سکتا ہے۔ ان تمام صورتوں میں، آکسیجن کی مقدار کم از کم 18 فیصد ہونا ضروری ہے، کیونکہ اس کے بغیر آگ جلانا ممکن نہیں ہوتا، اور آگ کے بغیر کوئی ٹیکنالوجی ترقی نہیں کر سکتی۔
اس تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ پلیٹ ٹیکٹونکس زمین جیسے سیاروں کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری عمل ہے۔ ڈاکٹر شیرف کے مطابق، “ایک وقت آئے گا جب زمین کی فضا میں اتنی زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جمع ہو جائے گی کہ فوٹوسنتھیسز کا عمل رک جائے گا، اور یہ تقریباً 20 کروڑ سے لے کر ایک ارب سال کے دوران ہو سکتا ہے۔”
محققین نے ان ادوار کا موازنہ زمین پر ٹیکنالوجی کے ارتقاء سے کیا، جو تقریباً 4.5 ارب سال بعد ممکن ہوا۔
تحقیق کے مطابق، اگر کسی سیارے پر جدید ٹیکنالوجی رکھنے والی خلائی مخلوق موجود ہو اور وہاں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار 10 فیصد ہو، تو اس تہذیب کو کم از کم 2,80,000 سال تک زندہ رہنا ضروری ہوگا تاکہ کسی دوسری تہذیب کا وجود ممکن ہو سکے۔
ڈاکٹر شیرف نے کہا: “غیر ارضی ذہین مخلوقات کا وجود بہت نایاب ہو سکتا ہے، اور یہ اس بات پر منحصر ہے کہ کوئی تہذیب کتنی دیر تک قائم رہتی ہے۔”
محققین کا اندازہ ہے کہ اگر ہم کبھی کسی غیر ارضی تہذیب کا سراغ لگاتے ہیں، تو وہ انسانوں سے کہیں زیادہ پرانی ہو گی۔ ان تخمینوں کے مطابق، سب سے قریب ترین ٹیکنالوجی رکھنے والی غیر ارضی تہذیب زمین سے تقریباً 33,000 نوری سال کے فاصلے پر ہو سکتی ہے، جو کہ ملکی وے کہکشاں کے دوسرے کنارے کے برابر ہے۔
شیرف کا کہنا ہے: “اگرچہ غیر ارضی ذہین مخلوقات نایاب ہو سکتی ہیں، لیکن ان کا پتہ لگانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے ان کی تلاش۔ اگر یہ تلاشیں ناکام رہتی ہیں تو ہماری تھیوری مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔ اور اگر SETI کو کسی غیر ارضی تہذیب کا سراغ ملتا ہے، تو یہ سائنسی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی ہو گی، کیونکہ اس کا مطلب ہوگا کہ ہم کائنات میں اکیلے نہیں ہیں۔”