اڈیشہ: بھارت کی ریاست اڈیشہ کے ضلع رائے گڑھ کے ایک گاؤں میں اُس وقت ہلچل مچ گئی جب قبائلی برادری سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی نے اہل خانہ کی مرضی کے خلاف دوسری ذات کے لڑکے سے شادی کر لی۔
مقامی روایات کے مطابق، یہ عمل برادری کے رسم و رواج کے منافی سمجھا گیا۔ لڑکی کے خاندان اور قریبی رشتے داروں کو برادری میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے مذہبی تطہیر کی رسم “شدھی کرن” ادا کرنی پڑی، جس میں 40 افراد نے اجتماعی طور پر سر منڈوائے۔
یہ رسم عام طور پر کسی کی وفات کے بعد کی جاتی ہے، تاہم اس صورت میں برادری میں واپسی کی شرط کے طور پر لاگو کی گئی۔ رسم کے دوران بکرا اور مرغی کی قربانی بھی دی گئی، جس کے تمام اخراجات لڑکی کے اہل خانہ نے اٹھائے۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور ابتدائی طور پر گاؤں والوں نے شادی پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔