تل ابیب سات اکتوبر 2023 کے حملے کے تمام ذمہ داروں کو ختم کرنے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر

تل ابیب سات اکتوبر 2023 کے حملے کے تمام ذمہ داروں کو ختم کرنے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اعلان کیاہے کہ تل ابیب سات اکتوبر 2023 کے حملے کے تمام ذمہ داروں کو ختم کرنے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ ان کا یہ بیان اسرائیلی فوج کی جانب سے حماس کے عسکری ونگ عز الدین القسام بریگیڈز کے کمانڈر انچیف عز الدین الحداد کو قتل کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ نیتن یاہو نے حکومت کے ہفتہ وار اجلاس کے دوران کہا کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ حملے اور یرغمالیوں کو اغوا کرنے کے ہر ماسٹر مائنڈ کو ایک ایک کرکے ختم کر دیا جائے گا اور ہم اس مشن کو مکمل کرنے کے بہت قریب ہیں۔انہوں نے دوبارہ اس بات پر زور دیا کہ ان کی افواج غزہ کے 60 فیصد حصے پر کنٹرول رکھتی ہیں۔ نیتن یاہو کے اس بیان سےمعلوم ہوا کہ اسرائیلی فوج نے پٹی کے اندر اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنا جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سے قبل ایسی میڈیا رپورٹس سامنے آئی تھیں جن میں اسرائیلی افواج کی نئے نام نہاد “اورنج لائن” کی طرف پیش قدمی کا ذکر کیا گیا تھا۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ حماس اب ہماری گرفت میں ہے۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارا مشن کیا ہے اور ہمارا مشن یہ یقینی بنانا ہے کہ غزہ دوبارہ کبھی اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بنے۔ واضح رہے حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد نیتن یاہو نے ان لوگوں کا تعاقب کرنے کا عزم کیا تھا جنہیں انہوں نے حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں فرانس پریس ایجنسی کے شمار کے مطابق اسرائیل میں 1221 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسرائیل نے حماس کے حملے کا جواب غزہ پر ایک غیر معمولی اور ہولناک جنگ سے دیا جس کے نتیجے میں پٹی کے صحت کے حکام کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق تقریباً 72,763 فلسطینی جاں بجق ہو چکے ہیں۔ حملے کے بعد سے اسرائیل حماس کے سیاسی اور عسکری رہنماؤں کو غزہ اور اس سے باہر دونوں جگہ نشانہ بنانا جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل نے غزہ، لبنان اور ایران میں حماس کے کئی سیاسی اور عسکری رہنماؤں کا تعاقب کیا اور انہیں جاں بحق کیا ہے۔ ان جاں بجق ہونے والوں میں سب سے نمایاں تحریک کے سربراہ یحییٰ السنوار اور ان کے بھائی محمد تھے جنہوں نے محمد الضیف کے بعد القسام بریگیڈز کے کمانڈر انچیف کا عہدہ سنبھالا تھا۔ حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو اس وقت جاں بجق کیا گیا تھا جب وہ تہران کے دورے پر تھے۔ یاد رہے جنگ بندی کا معاہدہ، جس میں امریکہ نے ثالثی کی تھی اور جو گزشتہ 10 اکتوبر سے نافذ العمل ہے، غزہ کے اندر نام نہاد “ییلو لائن” تک اسرائیلی افواج کے پیچھے ہٹنے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق بھی پٹی کے 50 فیصد سے زیادہ علاقے پر اسرائیل کا کنٹرول برقرار ہے۔ امریکی سرپرستی میں طے پانے والے معاہدے کے باوجود غزہ کی پٹی میں تشدد کی کارروائیاں جاری ہیں۔ پٹی کے صحت کے حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی حملوں سے 871 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اسی مدت کے دوران اپنے 5 فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔