nasa-hand-x-ray-video-and-pics

خلا میں نظر آیا ایکسرے نما ’پُراسرار ہاتھ‘

کیلی فورنیا: امریکی خلائی ادارے ناسا نے ستاروں کے عکس کی ایک ایسی تصویر شیئر کی جو ہاتھ کے ایکسرے کی طرح نظر آرہی ہے۔

ناسا کی جانب سے جاری ہونے والی تصویر سائنس فکشن فلم کا کوئی منظر محسوس ہورہی ہے یا پھر اسے دیکھنے والے ایسے ایڈیٹڈ تصویر سمجھ رہے ہیں مگر یہ بالکل غلط ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق ناسا کی جانب سے جاری ہونے والی تصویر ستاروں کے عکس کی ہے، جسے جدید ترین ایکسرے دوربین سے محفوظ کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسے مناظر انسانی آنکھ یا کسی ایکسرے مشین سے نہیں دیکھے جاسکتے، اسی لیے ان کو محفوظ کرنے کے لیے جدید ترین  رصد گاہی دوربینیں تیار کی گئیں جنہیں ’چندرا ایکسرے خلائی ‘ دوربین کا نام دیا گیا ہے۔

خلا میں نظر آیا ایکسرے نما ’پُراسرار ہاتھ‘ 1

یہ تصویر انسانی ہاتھ کے ایکسرے کی لگ رہی ہے، جس میں قوس و قزاح سمیت دیگر رنگ شامل ہیں۔

ناسا نے پہلی بار یہ منفرد تصویر 2009 میں جاری کی تھی، بعد ازاں چندرا ایکسرے دوربین کی مدد سے 2004، 2008 ، 2017 اور 2018 میں ایسی تصاویر جاری کی گئیں۔

خلا میں نظر آیا ایکسرے نما ’پُراسرار ہاتھ‘ 2

ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ انہوں نے باریک بینی کے ساتھ اس تصویر کا مشاہدہ کیا، خلا میں نظر آنے والا ’پُراسرار ہاتھ‘ دراصل ستاروں کے جھرمٹ سے خارج ہونے والی گیس اور گرد کا وسیع بادل ہے، جسے سائنسی زبان میں نیبولا بھی کہا جاتا ہے۔

خلا میں نظر آیا ایکسرے نما ’پُراسرار ہاتھ‘ 3

فلکیاتی ماہرین کے مطابق یہ ’پُراسرار ہاتھ‘ 150 نوری سال تک پھیلا ہوا ہے جس کی روشنی تین لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔

فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین سے یہ بادل 17 ہزار نوری سال کی مسافت پر واقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں