رینسم ویئر کے عالمگیر خطرے سے نمٹنے کے لیے دنیا کے ممالک متحد 1

رینسم ویئر کے عالمگیر خطرے سے نمٹنے کے لیے دنیا کے ممالک متحد

کمپیوٹر ہیکرز نیٹ ورکوں میں گھسنے اور کاروباروں، حتٰی کہ اہم بنیادی ڈھانچوں کو یرغمال بنانے کے لیے رینسم ویئر کا استعمال کر رہے ہیں۔ جولائی میں رینسم ویئر کے ایک حملے نے امریکہ سمیت کم از کم 17 ممالک میں ہزاروں کاروباروں کو متاثر کیا اور کرپٹو کرنسی کی شکل میں دسیوں ملین ڈالر کے بھتے کا مطالبہ کیا۔

اسی لیے وائٹ ہاؤس نے 13 اور 14 اکتوبر کو 30 ممالک اور یورپی یونین کے نمائندوں کا “کاؤنٹر رینسم ویئر انیشیٹو میٹنگ” [یعنی رینسم ویئر کے خاتمے کے منصوبے] کا ایک اجلاس بلایا تاکہ سرحدوں سے ماورا اس خطرے کو نشانہ بنایا جا سکے۔

امریکہ کے قومی سلامتی کی مشیر، جیک سلیون نے 13 اکتوبر کو اس گروپ کو بتایا، “ہم سب جانتے ہیں کہ رینسم ویئر حملے ہم سب کو متاثر کرتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ رینسم ویئر نے بنکوں اور ایمرجنسی کمپنیوں سے لے کر سکولوں اور ہسپتالوں تک، انتہائی اہم سہولتوں کو درہم برہم کیا ہے۔

اس ورچوئل اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے چھ براعظموں پر پھیلے ممالک کے عہدیداروں نے رینسم ویئر کے واقعات کو روکنے اور ان کا فوری جواب دینے، انہیں ناکام بنانے اور مجرموں کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے ملکر کام کرنے اور ایسے مالیاتی نظاموں سے نمٹنے کا عہد کیا جو اِن حملوں کو منافع بخش بناتے ہیں۔

انہوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا، “رینسم ویئر کا خطرہ پیچیدہ اور عالمگیر نوعیت کا ہے اور اس کے لیے مشترکہ ردعمل درکار ہے۔ “ہمارا معلومات کے تبادلے کو بڑھانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کرنے کا اور وہاں رینسم ویئر کی سرگرمیوں کا خاتمہ کرنے کے لیے مطلوبہ مدد فراہم کرنے کا ارادہ ہے جہاں ہم ایسا کرنے کے قابل ہوں۔”

دنیا کے ممالک رینسم ویئر کے خلاف مل کر کام کر رہے ہیں
رینسم ویئر کے خاتمے میں مندرجہ ذیل کوششیں شامل ہیں:-

لچک پیدا کرنا: حکومتیں اور نجی شعبہ آپس میں معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں، عملے کو تربیت دے رہے ہیں اور رینسم ویئر کے خلاف اپنے دفاعوں کو مضبوط بنانے کے لیے پالیسیاں وضح کر رہے ہیں اور جب رینسم ویئر کے واقعات رونما ہوں تو ان کے اثرات کو کم کرنے کو آسان بنا رہے ہیں۔
ورچوئل کرنسیوں کے غلط استعمال کو روکنا: امریکہ کے محکمہ خزانہ نے ایک ایسی ورچوئل ایکسچینج کمپنی پر پابندیاں لگائی ہیں جس نے رینسم ویئر کے ذریعے حاصل کردہ رقومات کی منی لانڈرنگ کی تھی۔
ہیکروں کو نشانہ بنانا: امریکی محکمہ انصاف کی ایک ٹاسک فورس رینسم ویئرکے خلاف کی جانے والی امریکہ کی نفاذ قانون کی کوششوں میں رابطہ کاری کرتی ہے اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون کرتی ہے۔
بین الاقوامی تعاون کی ترجیحات طے کرنا: امریکہ دنیا کے ممالک پر رینسم ویئر کے نیٹ ورکوں کو ناکام بنانے کے لیے تعاون کرنے پر زور دے رہا ہے کیونکہ مجرم رینسم ویئر پھیلانے کے لیے عالمگیر بنیادی ڈھانچے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
اجلاس کے شرکاء نے کمپنیوں اور افراد کے سائبرسکیورٹی کے بہترین طریقوں پر عمل کرنے کی تجاویز بھی دیں۔ ان تجاویز میں آف لائن ڈیٹا کو بیک اپ کرنا، مضبوط پاس ورڈ بنانا اور ملٹی فیکٹر تصدیق کا استعمال کرنا، سافٹ وئیر کے پیچز کو اپ ڈیٹ رکھنا، اور صرف قابل اعتماد لنکس اور دستاویزات کھولنا شامل ہیں۔

امریکہ نے یورپی یونین، آسٹریلیا، برازیل، بلغاریہ، کینیڈا، جمہوریہ چیک، جمہوریہ ڈومینیکن، ایسٹونیا، فرانس، جرمنی، بھارت، آئرلینڈ، اسرائیل، اٹلی، جاپان، کینیا، لیتھوینیا، میکسیکو، نیدرلینڈ، نیوزی لینڈ، نائجیریا، پولینڈ، جمہوریہ کوریا، رومانیہ، سنگاپور، جنوبی افریقہ، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، یوکرین، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے حکومتی نمائندوں کو اجلاس میں مدعو کیا۔

سلیون نے کہا، “ہم یہ کام اکیلے نہیں کر سکتے۔ کوئی بھی ملک، کوئی بھی گروپ اس مسئلے کو تنہا حل نہیں کر سکتا۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں