سائنس دانوں کا جنون، زمین سے فنا ہونے والا دیو قامت ہاتھی 6 برس بعد پہلی بار زندہ ہوگا 1

سائنس دانوں کا جنون، زمین سے فنا ہونے والا دیو قامت ہاتھی 6 برس بعد پہلی بار زندہ ہوگا

امریکی ماہرین جینیات نے دس ہزار سال پہلے زمین سے فنا ہونے والے دیو قامت ہاتھی ’میمتھ‘ کو ڈی این اے کے ذریعے پھر سے زندہ کرنے کا بڑا منصوبہ ترتیب دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق منجمد میمتھ سے حاصل شدہ ڈی این اے کا استعمال اس ناپید ہونے والی نوع کو ’جینیاتی طور پر دوبارہ زندہ کرنے‘ کے لیے کیا جا رہا ہے، یہ ایک ایسا خیال ہے جو مشہور زمانہ فلم سیریز جراسک پارک کے پیچھے کارفرما تھا، لیکن اب یہ حقیقت سے بھی ہم کنار ہو سکتا ہے۔

یہ منصوبہ رواں ہفتے ایک نئی بایو ٹیکنالوجی کمپنی کولوسل سامنے لائی ہے، جس کا مقصد ہزاروں برس بعد اونی میمتھ کو واپس لانا ہے، ایک ایسی قدیم پرجاتی جو برفانی علاقے میں گھومتی پھرتی تھی۔ اس منصوبے کے پیچھے دو افراد کا ہاتھ ہے، امریکی ماہر جینیات جارج چرچ اور ٹیکنالوجی کمپنی ہائپر جینٹ کے سی ای او بین لام۔
سائنس دانوں کا جنون، زمین سے فنا ہونے والا دیو قامت ہاتھی 6 برس بعد پہلی بار زندہ ہوگا 2
واضح رہے کہ میمتھ کی کئی لاشیں بہترین حالت میں روسی برفیلے خطوں بالخصوص سائبیریا سے ملی ہیں، جن کی ہڈیوں میں گودا اور گوشت کے ٹکڑے بھی سلامت ہیں، جس کے بعد ماہرین نے ان کو دوبارہ دنیا میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اب ماہرین نے امید ظایر کی ہے کہ اگلے 6 برس میں پہلا میمتھ نما ہاتھی اس دنیا میں آنکھ کھولے گا۔

میمتھ ہاتھی کو دوبارہ وجود میں لانے کے لیے 4 مراحل میں یہ کام کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں جو جانور تخلیق کیا جائے گا، وہ نصف ہاتھی اور نصف میمتھ ہوگا یعنی میموفینٹ (mammophant)، دوسرے مرحلے میں ایشیائی ہاتھی کی جلد کے خلیات لے کر اسے جینیاتی انجینئرنگ سے بدل کر میمتھ کے جین شامل کیے جائیں گے۔

تیسرے مرحلے میں اسٹیم سیل کی مدد سے ایک بیضہ تیار کیا جائے گا، جب کہ آخری مرحلے میں انڈے کی افزائش شروع کر کے اسے ایشیائی مادہ میں داخل کر کے اسے حاملہ کیا جائے گا۔

امریکی ماہرین نے میمتھ کے ڈی این اے کی عام ہاتھیوں سے کلوننگ کے لیے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا سرمایہ بھی جمع کر لیا ہے۔

دراصل فی الوقت جو منصوبہ پیش کیا گیا ہے وہ ہائبرڈ ہاتھی کی تخلیق کا ہے، جسے جین ایڈیٹنگ ٹول کے ذریعے تیار کیا جائے گا، اس ٹول کو CRISPR-Cas9 کہا جاتا ہے، اور اس کے ذریعے منجمد میمتھ سے حاصل شدہ ڈی این اے نمونوں کو میمتھ کے قریبی لیکن زندہ رشتہ دار یعنی ایشیائی ہاتھی کے نمونوں کے ساتھ جوڑا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں