Changes in the Earth's rotation

زمین کی گردش میں تبدیلی، سائنس دانوں کا حیران کن انکشاف

زمین کی گردش میں تیزی سے متعلق سائنس دانوں نے حیران کن انکشاف کردیا۔

ہمارے لیے 86400 سیکنڈز، یا 24 گھنٹے، ایک دن کے برابر ہوتے ہیں کیونکہ زمین اتنے وقت میں اپنے محور پر ایک گردش مکمل کرتی ہے، زمین کی یہ گردش ہر جگہ یکساں نہیں ہوتی اور اس کی رفتار میں عموماً کمی آرہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہر ایک صدی میں دن تقریباً 1.8 ملی سیکنڈز بڑھ رہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ 60 کروڑ سال پہلے ایک دن صرف 21 گھنٹے کا تھا۔

دن کی طوالت میں تبدیلی مختلف وجوہات کی بنیاد پر آئی ہے، جن میں چاند اور سورج کے مد و جزر پر پڑنے والے اثرات، زمین کے مرکزے اور اس پر موجود کمیت کی مجموعی تقسیم، اس کے علاوہ زلزلے، یخ بستگی، موسم، سمندر اور زمین کا مقناطیسی میدان بھی دن کی طوالت پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

لیکن اب سائنس دانوں نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے کہ بجائے کم ہونے کے زمین کی گردش میں تیزی آرہی ہے، گزشتہ پچاس سال کے عرصے میں یہ اس وقت سب سے زیادہ تیزی سے گھوم رہی ہے اور ریکارڈ تاریخ کے مختصر ترین 28 دن 2020 میں ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

سائنس دانوں کو اندازہ نہیں ہے کہ زمین کی گردش تیز ہونے کی وجہ کیا ہے؟

لیکن چند ماہرین سمجھتے ہیں کہ اس کی وجہ 20 ویں صدی کے دوران زمین پر موجود گلیشیئرز کا پگھلنا ہوسکتا ہے یا پھر شمالی نصف کرے کے آبی ذخائر میں پانی کی بڑی مقدار جمع ہونا البتہ ماہرین کی پیش گوئی ہے کہ یہ تیزی محض عارضی ہے اور زمین کی گردش مستقبل میں دھیمی پڑنا شروع ہو جائے گی۔

لیکن تب تک کے لیے کیا پریشانی کی کوئی بات ہے؟ گوکہ اس کا ہمارے روزمرہ امور پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔
ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، مثلاً جی پی ایس، سیٹیلائٹ، اسمارٹ فونز، کمپیوٹرز اور کمیونی کیشن نیٹ ورکس پر، جن کا انحصار درست وقت پر ہوتا ہے۔ لیکن ان مسائل کو بجائے بڑھانے کے ایک لیپ سیکنڈ کم کرکے حل کیا جاسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کم از کم تب تک جب تک دن کا دورانیہ اتنا کم ہو جائے کہ اس کے انسانی سرگرمیوں پر اثرات پڑنا شروع ہو جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں