what options does Nawaz Sharif

برطانیہ کی مزید ویزا توسیع سے معذرت، نواز شریف کے پاس کونسے آپشن ہیں اور کیا انہیں پاکستان کے حوالے کیا جاسکتا ہے؟

نواز شریف کے پاس کیا کیا آپشن ہیں

اس بارے میں برطانیہ میں کام کرنے والے سینئر وکیل بیرسٹر امجد ملک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی ابھی ویزا توسیع کی درخواست مسترد ہوئی ہے البتہ ان کے پاس ابھی بہت سے آپشن موجود ہیں

ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں نواز شریف کے وکلا نے اپیل دائر کر دی ہے اور اس اپیل کی سماعت میں ہی چھ ماہ سے ایک سال کا وقت لگ سکتا ہے۔ اگر امیگریشن ٹریبونل میں اپیل بھی مسترد ہو گئی تو اس کے بعد نواز شریف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل دائر کر سکتے ہیں

بیرسٹر امجد ملک نے مزید کہا کہ نواز شریف اس بارے میں ٹریبونل کو آگاہ کر سکتے ہیں کہ انہیں کن بنیادوں پر ویزا میں توسیع دی جائے۔ نواز شریف کے ڈاکٹرز کے بیانات اس بارے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں

انہوں نے بتایا کہ ابھی تک حکومتِ پاکستان نے نواز شریف کی حوالگی یا پھر انٹرپول کے ذریعے ملک واپس لانے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی۔ اگر حکومتِ پاکستان ایسی اپیل کرتی ہے تو یہ معاملہ بھی الگ سے دیکھا جائے گا۔ اپیل دائر ہونے کے بعد اس کی سماعت مکمل ہونے تک ان کا یہاں قیام قانونی ہو گا

نواز شریف کے پاسپورٹ کی میعاد ختم ہونے کے سوال پر امجد ملک کا کہنا تھا کہ برطانوی امیگریشن قانون کے مطابق اس پاسپورٹ کی مدت ختم ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ جب پہلی مرتبہ ویزا کے لیے درخواست دی جاتی ہے تو اس کے لیے قابلِ میعاد پاسپورٹ ہونا ضروری ہے۔ درخواست کے ساتھ اس کی کاپی دی جاتی ہے لیکن اس میں توسیع یا پھر عدالتی کارروائی کے لیے قابلِ استعمال پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ نواز شریف کو پاکستان یا کسی اور ملک سفر کے لیے پاسپورٹ کی ضرورت ہوگی ۔ پاکستان واپس آنے کے لیے انہیں سفری دستاویزات بھی دی جا سکتی ہیں

بیرسٹر امجد ملک کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے خاندان نے اب تک سیاسی پناہ لینے کو مکمل طور پر رد کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ علاج کے بعد پاکستان جانا چاہتے ہیں البتہ نوازشریف کے پاس ابھی کافی آپشن موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ میڈیکل گراؤنڈز پر ان کی ویزا توسیع کی درخواست مسترد ہوئی تو ان کے بیٹے برطانوی پاسپورٹ ہولڈر ہیں اور اگر وہ اپنے والد کو سپورٹ کرتے ہوئے ویزا کی درخواست دیں تو اس پر بھی انہیں ویزا مل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ حکومتِ پاکستان کی طرف سے ان کے پاسپورٹ کی تجدید نہ ہونے کے بیانات موجود ہیں۔ لہٰذا نواز شریف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اسٹیٹ لیس ہونے کی درخواست کریں تو اس پر بھی کارروائی کی جا سکتی ہے

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف پاکستانی عدالتوں اور ارشد ملک کے معاملے پر بھی عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ نواز شریف کو سیاسی پناہ کی درخواست دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ان کے پاس کافی راستے موجود ہیں

امجد ملک نے بتایا کہ ایک سال تک نواز شریف کی اپیل کی کارروائی ہونے کا امکان ہے۔ ایسے میں ان کا فوری پاکستان واپس جانا بھی مشکل نظر آ رہا ہے

Partner Content: VOA Urdu

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں