we-all-are-selected-shahid-khaqan-abbasi

’ہم سب سلیکٹڈ ہیں، ماضی داغدار ہے‘ : شاہد خاقان کا اعتراف

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اعتراف کیا ہے کہ ہم سب سلیکٹڈ ہیں کیونکہ سب کا ماضی داغدار ہے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کا نظام آئین کے مطابق چلے گا، پیپلزپارٹی نے سینیٹ اپوزیشن لیڈر کا جو فیصلہ کیا اُس سے انہیں سیاسی نقصان ہوا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے اعتراف کیا کہ ’پیپلزپارٹی کےفیصلےسے پی ڈی ایم کی ساکھ کو بری طریقے سے نقصان پہنچا کیونکہ پی ڈی ایم اجلاس میں طےہوا تھاچیئرمین سینیٹ پی پی، ڈپٹی چیئرمین جے یو آئی ف کا ہوگا جبکہ میرے گھر پر ہونے والے اجلاس میں طے ہوا تھا کہ اپوزیشن لیڈر سینیٹ مسلم لیگ ن کا ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’پیپلزپارٹی کے اقدام سے پی ڈی ایم کے بیانیےکونقصان نہیں پہنچا مگر اعتماد کو ضرور ٹھیس پہنچی، پیپلزپارٹی نےجو کیا اُس سے خواجہ آصف کاخدشہ درست ثابت ہوگیا،پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سےمشترکہ فیصلےکیےجارہےتھے پھر بھی پیپلزپارٹی نے ذاتی فیصلہ کرلیا جس سے اعتماد کو دھچکا لگا‘۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ’مولانا کے بعد ن لیگ ہے جس نےپی ڈی ایم میں ہر بات کو تسلیم کیا، ہم چاہتےتھے پی ڈی ایم آگے چلے اور تحریک کو تقویت ملے کیونکہ یہ تحریک نظام کی بحالی چاہتی ہے،پہلی بارہواحکومتی اتحادی پارٹی کی مددسے اپوزیشن لیڈر سینیٹ کا انتخاب ہوا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ لوگ کہتےہیں پیپلزپارٹی کےاقدام سےڈیل کی بو آتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے جو تاثر آیا اُس اپوزیشن،حکومت اورسیاست بدنام ہوئی ہے،ہم تو روزِ اوّل سے اس بیانیے پر ہیں کہ ملک کا نظام آئین کے مطابق چلائیں، کسی بھی معاہدے پر بحث نہ کریں اور ایک ہی بیانیے کے ساتھ چلیں، ہمارا اتفاق ہےکہ نظام کی تبدیلی کے بغیر ملکی ترقی ممکن نہیں ہے، جوبھی انفرادی طورپر ڈیل کرےگا اُس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے‘۔

’ہم کوئی پھڈا ڈالنا نہیں چاہتے، اس لیے اب پی ڈی ایم بیانیے پر توجہ دے کر تحریک آگے بڑھائے گی، ہمیں لانگ مارچ سے قبل استعفے دینے ہیں،اگر پیپلزپارٹی استعفے نہیں دے گی توپھر شاید ہماری راہیں جداہوجائیں گی‘۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ’پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں یہ تمام باتیں ہوں گی، لانگ مارچ اپنے وقت پر ہوگا، پی ڈی ایم میں شامل ہر جماعت نے مشورہ دیا تھا کہ استعفے دے کر لانگ مارچ ہوناچاہیے مگر  پیپلزپارٹی نے استعفوں سے متعلق اتفاق نہیں کیا تھا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم اقتدارکےلیےجنگ نہیں لڑرہے، اگر ایسا ہوتا تو پنجاب میں تحریکِ عدم اعتماد پر رضامندی ظاہر کرتے، پنجاب میں پی پی کے پاس اراکین ہیں تو وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتمادلے آئے‘۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ’پیپلزپارٹی سینیٹ میں الیکشن جیتی ہوئی تھی مگر یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر بنا کر اب پی پی سینیٹ الیکشن ہار گئی،ہم آج بھی کہتےہیں چیئرمین سینیٹ یوسف گیلانی کو ہوناچاہیے تھا‘۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم نے جن خدشات کا اظہار کیا وہ سچ ثابت ہورہے ہیں، ڈسکہ الیکشن ہوں یا سینیٹ انتخابات، سب میں ہمارے خدشات درست ثابت ہوئے‘۔

شاہد خاقان عباسی نے اعتراف کیا کہ ’ہم سب سلیکٹڈ ہیں کیونکہ ماضی میں سب یہ کام کرتے رہے ہیں، تمام سیاسی جماعتوں نے غلطیوں سے سیکھا جبکہ ہم اپنے ماضی پر معافی مانگ چکے ہیں، اگر کوئی کمیشن بنایا گیا تو تمام سیاسی جماعتوں کا ماضی داغدار نکلے گا‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں