umar-kamal-educated-biryani-seller

عمر کمال کی لیکچرار سے بریانی فروش بننے تک کی کہانی

اسلام آباد : محنت میں کوئی شرم نہیں کیونکہ محنت میں ہی عظمت ہے، اس کی بہترین اور فخریہ مثال اسلام آباد کے بریانی فروش اعلیٰ تعلیم یافتہ محمد عمرکمال ہیں جن کو دیکھ کر ان کیلئے دل سے بےاختیار دعا نکلتی ہے۔

شرٹ پر پاکستانی پرچم لگائے، اعلیٰ تعلیم یافتہ لیکن چار سال سے بے روزگار تیز دھوپ میں اسلام آباد میں ہوم میڈ بریانی فروش کرنے والے محمد عمر کمال کی کہانی بہت دردناک ہے کہ کس طرح انہوں نے بے روزگاری کے ایام میں مصائب کا سامنا کیا۔

محمد عمرکمال کی اہلیہ لبنیٰ دونوں میاں بیوی کی لیکچرار سے بریانی فروش بننے تک کی کہانی اور ان کی جدو جہد دیکھ کر آپ بھی آبدیدہ ہو جائیں گے۔ ملک کی معروف یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کرنے والے محمد عمر کمال اسلام آباد میں منفرد انداز میں بریانی کے پیکٹ فروخت کرتے ہیں۔
محمد عمر کمال نے یونیورسٹی آف بہاولپور سے پولیٹیکل سائنس اور انگریزی جب کہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ماسٹرز کرنے کے ساتھ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) اور کینیڈا کی میک گل یونیورسٹی سے انٹرپرائز مینجمنٹ کی ٹریننگ حاصل کی ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے ڈویلپمنٹ پروفیشنل ہیں مگر بے روزگاری وجہ سے انہوں نے بریانی بیچنے کا کام شروع کیا۔

ان کے مطابق شاید وہ پوری دنیا میں واحد پاکستانی فنڈ ریزنگ ایکسپرٹ ہیں کیونکہ نے فنڈ ریزنگ پر 15 سال کی ریسرچ کر رکھی ہے اور اس پر کتاب بھی لکھی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں فنڈ ریزنگ پڑھائی نہیں جاتی۔

اپنی داستان سناتے ہوئے محمد عمر کمال نے کہا کہ میں گزشتہ 4 سال سے بے روزگار تھا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے کا کام شروع کرنے کی راہ دکھائی۔ سب کچھ کھو جانے کے بعد میرے اور میری بیوی کے پاس کھانا پکانے کی صلاحیت تھی۔ بیوی نے حوصلہ دیا اور ہم نے بریانی بنا کر فروخت کرنا شروع کردی۔ بلیو ایریا مارکیٹ پر بے شمار دفاتر ہیں، اس لیے یہاں کاانتخاب کیا۔

محمد عمر کمال نے کہا کہ اللہ تعالیٰ بڑا غفور الرحیم ہے جب میں بریانی لے کر آتا ہوں، لوگ میرا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ بریانی ہاتھوں ہاتھ بک جاتی ہے۔ وہ لوگ جو پریشان ہیں، انہیں مشورہ دیتا ہوں کہ اللہ کو دوست بنا لیں تو کبھی پریشان نہیں ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں