ثاقب نثار آڈیو لیک: کیا مسلم لیگ ن ایسے ’ثبوتوں‘ کو ایون فیلڈ اپیل کیس میں استعمال کر سکتی ہے؟ 1

ثاقب نثار آڈیو لیک: کیا مسلم لیگ ن ایسے ’ثبوتوں‘ کو ایون فیلڈ اپیل کیس میں استعمال کر سکتی ہے؟

گذشتہ روز پاکستان کی سپریم کورٹ کے سابق سربراہ جسٹس ریٹائرڈ ثاقب نثار سے منسوب آڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد جہاں مسلم لیگ نواز کی جانب سے ایون فیلڈ کیس سے متعلقہ چند ’بڑے ثبوت‘ سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہیں حکومت کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے ’جعلی شواہد‘ کی کوئی حقیقت نہیں جن کا مقصد صرف اور صرف ملکی اداروں کو بدنام کرنا ہے۔

اس دعوؤں کے بعد یہ بحث شروع ہو چکی ہے کہ کیا مبینہ آڈیو لیک اور بیان حلفی اس نوعیت کے ’شواہد‘ ہیں جو عدالت میں پیش کیے جا سکیں اور یہ کہ آیا یہ ’شواہد‘ اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف اور مریم نواز کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزاؤں کے خلاف زیر سماعت اپیلوں پر اثر انداز ہو پائیں گے۔

سوال یہ بھی ہے کہ ماضی میں اس نوعیت کے تنازعات اور مبینہ شواہد سامنے آنے کے بعد کیا ملزمان کو عدالتوں سے ریلیف مل پایا یا نہیں؟

پاکستان مسلم لیگ نواز کا کہنا ہے وہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے سابق سربراہ جسٹس ریٹائرڈ ثاقب نثار سے منسوب مبینہ آڈیو اور گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی جیسے ‘بڑے ثبوتوں’ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ایون فیلڈ ریفرنس اپیل کیس میں اپنے حق میں استعمال کرے گی۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آڈیو لیک اور بیان حلفی جیسے معاملات عدلیہ اور فوج کے خلاف ایک منظم مہم کا حصہ ہیں اور چونکہ ایون فیلڈ ریفرنس پر اپیل کا معاملہ ابھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اسی لیے اس معاملے (آڈیو لیک) پر عدالت حکومت کو جو حکم دے گی وہ اس کے مطابق ہی آگے بڑھیں گے۔

یاد رہے کہ اتوار کی شب ‘فیکٹ فوکس’ نامی ویب سائٹ سے جاری کردہ ایک آڈیو میں دو افراد کی گفتگو سنی جا سکتی ہے، گفتگو کرنے والے دونوں افراد اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے مگر وہ گفتگو کے دوران ملک کے سابق وزیراعظم ’نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو سنائی جانے والی سزاؤں کے لیے دباؤ ڈالنے‘ کی بات کر رہے ہیں۔

جسٹس (ر) ثاقب نثار نے خود سے منسوب اس آڈیو کو جعلسازی کا نتیجہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ آڈیو مختلف کلپس جوڑ کر بنائی گئی ہو۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ثاقب نثار نے کہا تھا کہ ’یہ سب فیبریکیٹڈ ہے۔ میں نے ایسی کوئی بات کسی سے نہیں کی ہے۔‘

دوسری جانب قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز ان ’شہادتوں‘ کو ہائی کورٹ میں زیر سماعت اپیلوں میں استعمال کر کے اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے اور انھیں اس معاملے میں ریلیف ملنے کے بھی امکانات ہیں۔

ثاقب نثار
جسٹس (ر) ثاقب نثار نے خود سے منسوب اس آڈیو کو جعلسازی کا نتیجہ قرار دیا ہے

ماضی کی آڈیو لیک؟

یاد رہے کہ ماضی میں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کو ایس جی ایس کوٹیکنا کیس میں پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ یہ سزا لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج ملک محمد قیوم کی قیادت میں بنچ کی طرف سے سنائی گئی تھی۔

انھی دنوں میں ایک آڈیو ٹیپ سامنے آئی تھی جس میں مذکورہ جج کے علاوہ سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف اور اس وقت کے احتساب کمیشن کے چیئرمین سیف الرحمن آپس میں گفتگو کر رہے تھے اور ملزمان کو سزائیں سنانے کے حوالے سے جج پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔

سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے مختلف احتساب کیسوں میں ایک وکیل سردار لطیف خان کھوسہ نے بی بی سی کو بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج ملک قیوم کی آڈیو ٹیپ کو اس فیصلے کے خلاف اپیل میں نہ صرف بطور شہادت پیش کیا گیا تھا بلکہ اس آڈیو ٹیپ کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس جہانگیری کی سربراہی میں قام ہونے والے پانچ رکنی لارجر بینچ کے سامنے بھی سنایا تھا۔

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی اس پانچ رکنی بینچ کا حصہ تھے۔

انھوں نے کہا کہ جب سپریم کورٹ میں اس اپیل کی سماعت ہوئی تو اس وقت سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو ملک سے باہر تھیں اور ان کی عدم موجودگی میں سپریم کورٹ میں ایپل کی سماعت ہوئی تھی۔

سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے سزا کے خلاف اس اپیل پر اعتراض لگایا تھا کہ پہلے بینظیر کو سرنڈر کرنا پڑے گا تاہم رجسٹرار کے ان اعتراضات کے خلاف انھوں نے اپیل دائر کی تھی جس کی سماعت اس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ارشاد حسن خان نے اپنے چیمبر میں کی تھی اور انھوں نے ان کی اپیل منظور کرلی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

’نواز شریف کی سزا کے لیے دباؤ‘ سے متعلق آڈیو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے جعلی قرار دے دی

’انتشار مت پھیلائیں، کسی سے کبھی ڈکٹیشن نہیں لی‘: چیف جسٹس کا وکلا رہنما علی کرد کو جواب

رانا شمیم کے بیان حلفی کا معاملہ: اسلام آباد ہائیکورٹ کا توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ

انھوں نے کہا کہ پانچ رکنی لارجر بینچ نے اس معاملے کو دوبارہ سماعت کے لیے بھیج دیا تھا اور راولپنڈی کی احتساب کی عدالت نے ایس جی ایس اور کوٹیکنا کیس میں آصف علی زرداری کو بری کردیا تھا۔

واضح رہے کہ احتساب عدالتیں قائم ہونے سے پہلے کرپشن کے کیسوں کی سماعت ہائی کورٹ میں ہوتی تھی۔

سردار لطیف کھوسہ کے مطابق اس آڈیو ٹیپ کے منظر عام آنے کے بعد نہ صرف ملک قیوم کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا بلکہ اس وقت سپریم کورٹ کے جج جسٹس راشد عزیز کو بھی گھر جانا پڑا تھا۔

سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل اور قانون دان امجد شاہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو سزا دینے سے متعلق احتساب عدالت کے جج ملک ارشد کی مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک درخواست کی سماعت پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ جو جج انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا اور دباؤ میں آ کر کوئی فیصلہ دے تو ایسے شخص کو کسی طور پر بھی انصاف کی کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں اور یہ کہ اس طرح کی ویڈیو آنے کے بعد اعلی عدلیہ میں کام کرنے والے ججوں کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔

امجد شاہ کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان مبینہ شہادتوں کو پاکستان مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی کو احتساب عدالتوں سے ملنے والی سزاؤں کے خلاف اپیلوں میں استعمال کیا جائے گا اور ایسے حالات میں ملزم کو ریلیف ملنے کے امکانات ہوتے ہیں۔

تاہم انھوں نے کہا کہ بہتر ہو گا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک الگ سے کمیشن بنایا جائے جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت صدیقی کے ان الزامات کا بھی جائزہ لے جو انھوں نے اعلیٰ عدلیہ میں بینچوں کی تشکیل سے متعلق لگائے تھے۔

زرداری
’پاکستان مسلم لیگ ان ثبوتوں کو اپنے حق میں استعمال کرے گی‘

پاکستان مسلم لیگ نواز کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے منسوب اس آڈیو ٹیپ کی وجہ سے عدلیہ کی ساکھ پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگ گیا ہے، جس کی تحقیقات کی اشد ضرورت ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس سے منسوب مبینہ آڈیو کے ساتھ فارنزک رپورٹ بھی لگی ہوئی ہے جو اس آڈیو ٹیپ کے اصل ہونے کا ثبوت ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم کو سزا دینے سے متعلق یہ چوتھا ثبوت سامنے آیا ہے کہ کس طرح ججز کو کنٹرول کیا گیا۔

احسن اقبال نے سوال کیا کہ سابق جج شوکت صدیقی کا بیان، احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو، گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کا بیان حلفی اور اب جسٹس ریٹائرڈ میاں ثاقب نثار سے منسوب آڈیو ٹیپ سے بڑھ کر اور کون سے ثبوت درکار ہوں گے؟

انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت ان ثبوتوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف اور مریم نواز کو ایون فیلڈ ریفرنس میں ملنے والی سزاؤں کے خلاف دائر اپیلوں میں اپنے حق میں استعمال کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ جس طرح بنگلہ دیش میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو سزا سنائی گئی اسی طرح پاکستان میں بھی جس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، اس کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف نے اس مبینہ آڈیو کے پس منظر میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو سیاسی عمل سے باہر رکھنے کے لیے سکیم بنائی گئی۔ ‘اس سکیم کا پتا سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکی آڈیو کلپ سے چلتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ غلطیوں کو درست کیا جائے اور قوم انصاف کی منتظر ہے۔’

’فوج، عدلیہ کو متنازع بنانے کی کوشش‘
فواد چوہدری
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پاکستان کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے منسوب مبینہ آڈیو ٹیپ سے متعلق اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ اور فوج کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے اور پورا شریف خاندان عدلیہ اور فوج کو متنازع بنانے کے لیے ایک سکیم پر کام کر رہا ہے۔

نمائندہ بی بی سی ثنا ڈار سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب بھی نواز شریف اور مریم نواز کی اپیل کا معاملہ آگے بڑھتا ہے، جو کہ اب اختتام کے قریب ہے، تو وہ (شریف خاندان) لوگ پورا زور لگا رہے ہیں کہ اس معاملے کو متنازع بنایا جائے۔

فواد چوہدری نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے جعلی بیانات اور آڈیوز، بشمول گلگلت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کا حلف نامہ، کی حقیقت کچھ نہیں کیونکہ ثاقب نثار اس کی تردید کر چکے ہیں۔

سامنے آنے والے ان مبینہ شواہد پر حکومتی کارروائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ ابھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، تو اگر اس حوالے سے عدالت حکومت کو جو حکم دے گی ہم اس کے مطابق ہی آگے بڑھیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں