sadiq-sanjarani-elected-senate-chairman

صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب

اسلام آباد : تحریک انصاف کے صادق سنجرانی 48 ووٹ لے کر مسلسل دوسری بار چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے جب کہ ‏پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ پی ڈی ایم کے یوسف رضا گیلانی 42 ووٹوں کے ساتھ شکست کھا گئے. ان کے 7 ووٹ مسترد ہوئے.

یوسف رضا گیلانی کے پولنگ ایجنٹ فاروق ایچ نائیک نے مسترد ووٹوں‌ پر اعترض اٹھایا جسے پریذائیڈنگ افسر نے مسترد کر دیا اور صادق سنجرانی کو کامیاب قرار دیا گیا.

پریذائیڈنگ افسر نے صادق سنجرانی سے چیئرمین سینیٹ کے عہدے کا حلف لیا.

چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے 99 میں سے 98 سینیٹرز نے ووٹ کاسٹ کیے جماعت اسلامی ‏کے رکن نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

چیئرمین اورڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کیلئے سینیٹ کا اجلاس پریزائیڈنگ افسرسید مظفر حسین شاہ کی زیر صدارت ہوا. ارکان کوحروف تہجی کےاعتبارسےبلایا گیا اور 98 اراکین نے ووٹ کاسٹ کئے.

جماعت اسلامی کے مشتاق احمد کا نام پکارا گیا مگر وہ موجود نہیں تھے پریزائڈنگ افسر نے گھنٹی بجا کر ایک منٹ اضافی دیا اور مشتاق احمد خان کا نام پکارا لیکن وہ غیرحاضر تھے.

ووٹ پول کرنے کا طریقہ کار


یزائیڈنگ آفیسر  نے  اراکین کو ووٹ پول کرنےکے طریقہ کار سے آگاہ کرتے ہوئے کہا چیئرمین سینیٹ کیلئے بیلٹ پیپرز ہرے رنگ کے جاری کئے جائیں گے، امیدواروں کےنام اردومیں درج ہوں گے۔

پریزائیڈنگ آفیسر کا کہنا تھا کہ حروف تہجی کےاعتبارسےووٹرزکےنام پکارےجائیں گے، بیلٹ پیپرپرغلطی ہوتوبیلٹ باکس میں ڈالنے سے پہلےبتائیں، غلطی ہونے پر نیا بیلٹ پیپر جاری کیا جاسکتا ہے۔

پریزائیڈنگ آفیسر نے مزید بتایا کہ موبائل فونز، کیمرے اور دیگر الیکٹرانک آلات پولنگ بوتھ لے جانے پر پابندی ہے جبکہ بیلٹ پیپرپر لگائی جانیوالی مہر25 ووٹ کے بعد تبدیل کی جائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ کی سہولت کیلئے پولنگ 5بجے بند کی جائے گی پھر گنتی ہوگی، گنتی کے بعد منتخب ہونےوالے امیدوار سے چیئرمین سینیٹ کا حلف لیا کائے گا، چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کےبعدڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہوگا۔

پولنگ کا عمل شروع کرنے کی ہدایت


ایوان میں خالی بیلٹ باکس دکھایا گیا ، جس کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر نے پولنگ کا عمل شروع کرنے کی ہدایت کی، جس کے بعد عبد الغفور حیدری نے پہلا ووٹ کاسٹ کیا۔

خیال رہے سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کیلیے حکومتی امیدوار صادق سنجرانی اور اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی مد مقابل ہیں ، نمبر گیم میں اپوزیشن پچاس ووٹ کے ساتھ آگے جبکہ حکومتی اتحاد کے پاس اڑتالیس ووٹ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں