سعد رضوی: تحریکِ لبیک کے سربراہ کو رہا کر دیا گیا 1

سعد رضوی: تحریکِ لبیک کے سربراہ کو رہا کر دیا گیا

تحریک لبیک پاکستان کے مطابق حکومتِ پنجاب نے مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کو رہا کر دیا ہے۔

اس سے قبل 11 نومبر کو پنجاب حکومت نے سعد رضوی سمیت تحریک لبیک کے درجنوں کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول کی لسٹ سے نکالنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔ فورتھ شیڈول ایک ایسی فہرست ہے جس میں ایسے افراد کے نام ڈالے جاتے ہیں جن پر انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت دہشت گردی یا فرقہ واریت پھیلانے کا شبہ ہو۔

کوٹ لکھپت جیل انتظامیہ اور تحریک لبیک کی مرکزی شوریٰ کے رکن پیر عنایت الحق شاہ نے رہائی کی تصدیق کی ہے۔

بی بی سی کے شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے پیر عنایت کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت سعد رضوی کے ہمراہ ہیں جنھیں جلوس کی شکل میں تحریک لبیک کے ہیڈ کوارٹر مسجد رحمت اللعالمین لے جایا جا رہا ہے جہاں وہ بعد از نماز مغرب کارکنوں سے خطاب بھی کریں گے۔

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں حکومت سے ہونے والے ایک معاہدے کے بعد تحریک لبیک کے گرفتار کارکنوں کو رہا جبکہ اس تنظیم کا نام کالعدم تنظیموں سے نکال دیا گیا تھا جس کے بعد ٹی ایل پی نے وزیرآباد میں جاری دھرنا ختم کر کے واپس لاہور کا رخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس دھرنے کا اختتام کا اعلان کرتے ہوئے تحریک لبیک کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا تھا کہ سعد رضوی اپنے والد خادم رضوی کے عرس کی تقریبات اُن کے ساتھ منائیں گے۔

خادم رضوی کے عرس کی مرکزی تقریب کل لاہور میں ہو گی اور عرس کی تقریبات تین روز تک جاری رہیں گی۔

حکومتِ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکشن میں کہا گیا تھا کہ علامہ سعد رضوی کا نام ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی کی سفارش پر فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا تھا کیونکہ وہ اس تنظیم کے سربراہ ہیں جسے کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ کیونکہ سات نومبر کو تحریک لبیک کو کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے اس لیے تنظیم کے سربراہ کا نام بھی فورتھ شیڈول سے خارج کر دیا گیا ہے۔

تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے سے متعلق حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے جماعت کو قومی دھارے میں لانے میں مدد ملے گی جبکہ اس جماعت کا کہنا ہے کہ حکومت کا تحریک لبیک کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کا اقدام اپنی جگہ لیکن جب تک جماعت کے کارکنوں کا نام فورتھ شیڈول سے عملی طور پر نہیں نکالے جاتے اور ان کے بینک اکاؤنٹس بحال نہیں کیے جاتے اس وقت تک ان کے تحفظات دور نہیں ہوں گے

جماعت کے سینکڑوں کارکنان کے نام فورتھ شیڈول سے نکالے گئے تھے

صوبہ پنجاب کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ایک اہلکار کے مطابق تحریک لبیک کے جن افراد کے نام فورتھ شیڈول سے نکالے گئے تھے ان میں زیادہ کا تعلق لاہور، گوجرنوالہ، گجرات اور راولپنڈی سے ہے۔

اہلکار کے مطابق سٹیٹ بینک اور نادرا اور پاسپورٹ آفس کو بھی اس پیش رفت کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے کیونکہ فورتھ شیڈول میں ہونے کی وجہ سے ان افراد کے نہ صرف بینک اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے بلکہ ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کر دیے گئے تھے۔

سعد
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
تحریک لبیک کی مجلس شوری کے رکن مفتی عمیر کے مطابق ان کی جماعت کے سات سو سے زیادہ افراد فورتھ شیڈول کی فہرست میں شامل تھے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جس شخص کا نام انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل ہوتا ہے وہ شخص متعقلہ تھانے میں اطلاع دیے بغیر کسی دوسرے شہر میں بھی نہیں جاسکتا۔

مفتی عمیر کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے جن افراد کے نام فورتھ شیڈول میں رہ گئے ہیں ان کے بارے میں متعقلہ حکام کو آگاہ کررہے ہیں اور ان حکام نے ان کی جماعت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کے زیادہ تر افراد کے بینک اکاونٹس اس سال اپریل میں اس وقت بلاک کیے گئے جب تحریک لبیک کو کالعدم جماعتوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کے درجنوں ایسے کارکن ہیں جن کے بینک اکاونٹس دو تین سال پہلے سے ہی بلاک ہیں۔

سعد رضوی کو کیوں گرفتار کیا گیا؟
سعد رضوی کو ان الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا کہ انھوں نے اپنی جماعت کے کارکنان کو حکومت کے خلاف مظاہروں پر اکسایا جس کے دوران پُرتشدد کارروائیوں میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

لاہور ہائی کورٹ نے سعد رضوی کی نظربندی کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا تاہم پنجاب حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جس نے نظربندی کے خاتمے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے یہ معاملہ دوبارہ لاہور ہائی کورٹ کو بھیج دیا تھا اور ساتھ یہ حکم بھی جاری کیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کا ڈویژن بینچ اس معاملے کو دیکھے۔

سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد تحریکِ لبیک کی جانب سے ملک کے متعدد شہروں میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس کے دوران کم از کم چار پولیس اہلکار ہلاک جبکہ سینکڑوں اہلکار اور کارکن زخمی ہوئے تھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں