Resolution on deportation of French Ambassador

قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری سے متعلق قرارداد پیش

قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری سے متعلق قرارداد پیش کردی گئی۔

پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کے اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ن لیگ کے ارکان اسمبلی میں موجود ہیں۔

تحریک انصاف نے اپنے ارکان کو قومی اسمبلی اجلاس میں زیادہ سے زیادہ حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔

قرارداد کے اہم نکات

یہ ایوان فرانسیسی میگزین کی جانب سےنبیﷺکی شان میں گستاخی کی مذمت کرتاہے۔

فرانسیسی صدر کی گستاخی کرنیوالے عناصر کی حوصلہ افزائی افسوسناک ہے، قرارداد

فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے مسئلے پر بحث کی جائے۔

یورپی ممالک بالخصوص فرانس کو معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے۔

تمام مسلم ممالک سے معاملے پر سیر حاصل بات کی جائے۔

اس مسئلے کو اجتماعی طور پر بین الاقوامی فورمزپر اٹھایا جائے۔

اجلاس شروع ہوا تو وزیر مملکت علی محمد خان نے قومی اسمبلی کی معمول کی کارروائی معطل کرنے کی تحریک ایوان میں پیش کی جس پر ایوان نے قومی اسمبلی کی معمول کی کارروائی معطل کر دی۔

 رکن اسمبلی امجد علی خان نے ناموس رسالت کی قرارداد ایوان میں پیش کی۔ قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ایوان میں فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کی قرارداد پر بحث کی جائے۔

 امجد علی خان نے اس معاملے پر  پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست بھی کردی اور  وزیرپارلیمانی امورعلی محمد خان نےمعاملے پرپارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی بنانےکی تحریک پیش کی۔

ایوان نے خصوصی کمیٹی بنانے کی تحریک منظور کر لی جس پر اپوزیشن نے احتجاج کیا۔

 قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ قرارداد مشاورت سے لائی جانی چاہیے تھی، آپ نے قرارداد پیش کردی ہے، ہم اس پر غور کرکے آئیں گے، اس معاملے پر پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے، ایک گھنٹہ دیں ہم قرارداد لے کر آئیں گے ،  جو قرارداد دیں گے اس پر بحث کرائیں گے۔

جمعیت علمائے اسلام کے رکن مولانا اسعد محمود نے کہا کہ ہنگامی اجلاس بلانا تھا تو اتنی زحمت بھی نہ کی کہ اپوزیشن کو اعتماد میں لیتے، آپ حکومت کے نہیں بلکہ ایوان کے اسپیکر ہیں،اسپیکر صاحب کا طرز عمل جانبدارانہ ہے،  حکومت کےہاتھ ہےکہ اپوزیشن سے مل کر متفقہ قرارداد لائے۔

وزیرمذہبی امور نورالحق قادری نے قومی اسمبلی میں اپنے بیان میں کہا کہ قرارداد کا ایک پس منظر ہے جس کا اشارہ کرچکا ہوں، تنظیم میں شامل لوگ پاکستان کے شہری ہیں، اس تنظیم کی بہت سی مذہبی جماعتوں نے حمایت کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں