وزیراعظم عمران خان کارحمت اللعالمین ﷺ اتھارٹی کے قیام کا اعلان 1

وزیراعظم عمران خان کارحمت اللعالمین ﷺ اتھارٹی کے قیام کا اعلان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے رحمت اللعالمین ﷺ اتھارٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے اس کے اغراض و مقاصد سے بھی آگاہ کردیا۔

اسلام آباد میں رحمت اللعالمین ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا اور کہا کہ ہم اس کے ذریعے سیرت نبی ﷺ بچوں اوربڑوں کو پڑھانے کا طریقہ کار طے کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے اتھارٹی کی نگرانی خود کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اتھارٹی کے چیئرمین کی تلاش شروع کردی ہے، دنیا کے بہترین مذہبی اسکالرز کو چیئرمین بنایا جائے گا، جو اسلام سے متعلق دنیا کو آگاہ کرے گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اتھارٹی کے ذریعے اسکولوں کے نصاب کی نگرانی کی جائے گی۔ وزیر اعظم نے 12 ربیع الاول دھوم دھام سے منانے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ یہ ہمارے لیے بہت خوشی کا دن ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ رحمت اللعالمین اتھارٹی دنیاکوبتائےگی اسلام کیا ہے، بچوں کواپنےکلچرسےمتعرف کرانےکیلئےکارٹون سیریز متعارف کرائی جائیں گی، اتھارٹی کا ایک ممبر میڈیا پر نشر ہونے والے مواد پر نظر رکھے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میری والدہ نے ہمیشہ سیدھے راستے پر چلنے کے لیے دعا مانگنے کی تلقین کی، میں نے اللہ سے ہمیشہ سیدھے راستے پر چلنے کی دعا مانگی۔

انہوں نے کہا کہ جیسا میں آج ہوں ویساپہلےکبھی نہیں تھا، آج دیکھ رہا ہوں موجودہ دورمیں نوجوان نسل انتہائی دباؤکاشکار ہے، میں آج نئی نسل سے متعلق بات کرنا چاہتا ہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ میری والدہ نےمجھےہمیشہ سیدھے راستے پر چلنےکیلئے دعامانگنےکا کہا، میں نے نماز میں ایک ہی چیز مانگی کہ اللہ ہمیں سیدھے راستے پر چلائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں روز اپنی زندگی کا تنقیدی جائزہ لیتاہوں،میں نے اپنی زندگی میں بہت دیرسےنبی ﷺکی زندگی کامطالعہ کیا، ہم جن کورول ماڈل سمجھتےہیں ان کوتباہی کی طرف جاتےدیکھا، انسان کےپاس ہمیشہ 2 ہی راستےہوتےہیں،ایک ناجائز دولت کمانے اور دوسرا نبی ﷺکی سیرت پر چلنا ہے، اللہ ہمیں حکم دیتاہےنبی کریم ﷺ کی زندگی سے سیکھو۔

انہوں نے کہا کہ 12ربیع الاول سب مناتے ہیں لیکن نبی ﷺکی زندگی پرعمل نہیں کرتے، حضرت محمدﷺ رحمت اللعالمین تھے، رحمت المسلمین نہیں، حضرت محمدﷺ دنیا کیلئے رحمت بن کر آئے تھے، مدینہ کی ریاست کے اصولوں پرچلیں گے تو ملک ترقی کرے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج دنیامیں سب سے بڑامسئلہ موسمیاتی تبدیلی بنا ہوا ہے،دنیا میں دو طرز زندگی ہے ایک انسانیت دوسرا پیسوں کے پجاری،اصل نظام وہ ہے جس میں انسانیت ہوتی ہے اور اسلام انسانیت کواکھٹاکرنےکادین ہے،مدینہ کی ریاست میں انصاف اور انسانیت کا قانون تھا۔

’طاقت ورکبھی انصاف نہیں چاہتا، وہ ہمیشہ این آر او چاہتا ہے، تمام کامیاب ممالک میں قانون کی حکمرانی ہے،جن ممالک میں قانون کی بالادستی نہیں ہوتی وہ کامیاب نہیں ہوتے‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں