punjab-budget-2012-22

پنجاب کا بجٹ کتنا ہوگا؟ تفصیلات جاری

لاہور: پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ 2 ہزار 600 ارب روپے کے لگ بھگ ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ترقیاتی پروگرام کے لیے 560 ارب روپے رکھنے، جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے ڈھائی سو ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ میں صحت و تعلیم کے ترقیاتی بجٹ میں ڈیڑھ گنا اضافہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ صحت کارڈ کے لیے 60 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جب کہ کرونا متاثر کاروباری صنعت کو چھوٹ دینے کے لیے 50 ارب کے پیکج کی تجویز دی گئی ہے۔

سڑکوں کا جال بچھانے کے لیے پی ایس ڈی پی کے تحت 30 ارب کی تجویز، جنوبی پنجاب کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 196 ارب رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جب کہ جنوبی پنجاب کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے الگ سے کتاب بنائی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق زراعت کے شعبے کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 20 ارب کی اسکیمیں رکھی جائیں گی، 36 اضلاع کے لیے ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 100 ارب کی تجویز ہے، ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام کا منصوبہ 3 برس تک چلے گا۔

انصاف اسکول اپ گریڈیشن پروگرام کے تحت 8 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، پروگرام کے تحت دن میں پرائمری اسکول، شام میں سیکنڈری اسکول میں تبدیل ہو جائے گا۔

89 ارب روپے کی لاگت سے شہروں میں رولر واٹر سپلائی پروگرام کی تجویز ہے، ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے تعاون سے 80 ارب سے روڈ انفرا اسٹرکچر پروگرام شروع ہوگا، ماحولیات، اقلیتوں، اوقاف، سیاحت کے منصوبے کے لیے بھاری رقم مختص کی جائے گی، گرین انفرا اسٹرکچر فنڈ میں 3 ارب روپے تک رکھنے کی تجویز ہے۔

مختلف منصوبوں کے لیے 300 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دینے کی تجویز ہے، مرغی پال اور کٹا پال اسکیم کے لیے بھی خطیر رقم مختص کی جائے گی، آئندہ مالی سال کا بجٹ 14 جون کو پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں