pm-ik-address-nation-after-senate-election-upset

وزیراعظم عمران خان کا قوم سے اہم خطاب

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موؤمنٹ (پی ڈی ایم) میں یہ ساری جماعتیں متحد ہوگئیں اور سینیٹ انتخابات میں پیسہ استعمال کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب کے آغاز پر کہا کہ ’سینیٹ الیکشن سےمتعلق قوم سے بات کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اس سے متعلق قوم کو سمجھانا بہت ضروری ہے، اگر یہ الیکشن سمجھ آگئے تو قومی مسائل بھی سمجھ آجائیں گے‘۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’6سال پہلے جب خیبرپختونخواہ میں ہماری حکومت تھی اُس وقت بھی سینیٹ الیکشن میں حصہ لیا تھا، جس کے بعد اندازہ ہوا کہ سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلتاہے، یہ سلسلہ تیس، چالیس سال سے جاری ہے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’جس کو سینیٹر بننا ہوتا ہے وہ قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین کو خریدتا ہے، سینیٹر بننے کے لیے پیسے دے کر منتخب ہونا کسی مذاق سے کم نہیں ہے کیونکہ سینیٹ میں ہماری ملک کی قیادت آتی ہے‘۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم نے گزشتہ سینیٹ الیکشن کے بعد مہم شروع کی اور اوپن بیلٹ کا مطالبہ کیا کیونکہ 2018میں ہمارے20ارکان اسمبلی فروخت ہو گئے تھے، جن کو ہم نے پارٹی سے باہر نکالا، اوپن بیلٹ کا مطالبہ صرف میرا نہیں بلکہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کا بھی تھا، میثاق جمہوریت میں بھی انہوں نے اوپن بیلٹ پر اتفاق کیا تھا‘۔

’ہم قومی اسمبلی میں بل لائےکہ اوپن بیلٹ ہوناچاہیے، دونوں پارٹیاں جوکہہ رہی تھیں اوپن بیلٹ ہوناچاہیے انہوں نے اس بل کی مخالفت کی، جس کے بعد ہم کیس کو لے کر سپریم کورٹ گئے جہاں عدالت نے اس معاملے پر اپنی رائے دی اور شفاف انتخابات کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی سپرد کی‘۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’جو اوپن بلیٹ کی بات کرتے تھے وہ سب اس کے خلاف ہوگئے اور اوپن بلیٹ کو جمہوریت کے خلاف قرار دیا‘۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ’کرپشن کے خلاف جب مہم چلائی تو اپوزیشن جماعتیں خوفزدہ ہوگئیں، یہ لوگ سمجھتے تھے کہ عمران خان ان کے خلاف ہوگا، ان لوگوں کے خلاف درج ہونے والے کرپشن کیسز ہم نے نہیں بنائے بلکہ انہوں نے اپنے دور میں ایک دوسرے کے خلاف بنائے ‘۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’کرونا وبا کے دوران بھی اپوزیشن نےمجھ پر دباؤ ڈالنےکی کوشش کی، پاکستان کو بلیک لسٹ میں جانے سے بچانے کے لیے ہم فیٹف بل لائے مگر انہوں نے مخالفت کی اور دباؤ ڈال کراین آر او لینے کی کوشش کی، اگر  پاکستان بلیک لسٹ ہوجاتا تو ہم پر عالمی پابندیاں لگ جاتیں، جس کے بعد بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی اشیاء مزید مہنگی ہوجاتیں‘۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ایف اے ٹی ایف بل ملک کیلئےتھا اوریہ ذاتی بل لے آئے، اپوزیشن کی کوشش تھی کسی طرح نیب کوختم کردیا جائے‘۔

’حفیظ شیخ کو ہرانےکیلئے انہوں نے ہمارےممبران کوخریدا کیونکہ اپوزیشن اس شکست کے بعد مجھ پر عدم اعتماد کی تلوار کا دباؤ ڈالنا چاہتی تھی تاکہ این آر او لے لیں‘۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کادنیا میں ایک رتبہ ہوتا تھا، ہمارےصدرکا ایئرپورٹ پر کیا جاتا تھا، ہماری ایک بہترین تاریخ تھی اس کےبعد سیاست میں پیسہ چلناشروع ہوا، 1985میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات کے بعد پاکستان نیچے جانا شروع ہوا، پاکستان میں لوگ اقتدار میں پیسہ بنانے کے لیے آتے ہیں، عہدہ سنبھالنے کے بعد فیکٹریاں لگنا شروع ہوجاتی ہیں‘۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’دوسرےممالک اس لیےترقی کرگئےکیونکہ وہاں قانون کی بالادستی اور انصاف ہے، ہمارا مدینہ کی ریاست کا بنیادی نظریہ قانون اور انصاف کی فراہمی ہے جہاں طاقتور اور کمزور دونوں کو قانون کی گرفت میں لایا جاسکے، بدقسمتی سے پاکستان میں غریب اور امیر کے لیے الگ قانون ہے، طاقتور شخص سرکاری زمینوں پر قبضےکرتاہے مگر اسےکوئی نہیں پکڑتا، آج جیلوں میں آپ کو غریب لوگ ہی نظر آئیں گے، جن معاشروں میں طاقتور کو سزا نہ دی جائے وہ معاشرہ ظلم کی طرف چلا جاتا ہے، ملک کاوزیراعظم یا وزراچوری کرتےہیں تو ملک کو کمزورکردیتے ہیں‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں