pervaiz-rashid-disqualified

پرویز رشید سینیٹ الیکشن کے لیے نا اہل قرار، اپیل خارج

لاہور: ن لیگی رہنما پرویز رشید سینیٹ الیکشن کے لیے نا اہل قرار دے دیے گئے، الیکشن ٹریبونل نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل خارج کر دی۔

تفصیلا ت کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے آج سینیٹ الیکشن کے لیے پرویز رشید کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا، الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس شاہد وحید نے 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ واجبات کی کلیئرنس پرویز رشید کی ذمہ داری تھی، آر او نے پرویز رشید کو واجبات ادائیگی کے لیے مناسب وقت دیا لیکن اس پر عمل نہیں ہوا، اور چیک کے ذریعے واجبات ادا کرنے کی قانونی حیثیت نہیں ہے، امیدوار اپنے زیر کفالت افراد کی نادہندگی سے بھی الیکشن لڑنے کا اہل نہیں رہتا۔

فیصلے کے مطابق ریکارڈ میں واضح ہے کہ پنجاب ہاؤس کا کمرہ پرویز رشید کے نام سے بک کیاگیا تھا، عطاالحق قاسمی کیس میں واجبات کے اعتراض کو آر او نے کوئی اہمیت نہیں دی اس لیے یہ ٹریبونل بھی اس اعتراض سے مطمئن نہیں۔

قبل ازیں، پرویز رشید کے وکیل نے دلائل دیے کہ ریٹرننگ افسر نے رقم جمع کروانے کا حکم دیا تھا مگر تمام کوششوں کے باوجود رقم جمع نہ کرنے دی گئی، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے دلائل دیے کہ پرویز رشید نے بیان حلفی کے ساتھ کہا کہ انھیں بقایا جات کا علم نہیں حالاں کہ انھیں 2019 میں بھی نوٹس جاری کیے گئے تھے، پرویز رشید نے جان بوجھ کر حقائق چھپائے، اگر اعتراض نہ کیا جاتا تو وہ سینٹ کا الیکشن لڑ لیتے، آئین نے عوامی نمائندوں کی اہلیت کے لیے صادق اور امین کی شرط رکھی ہے۔

انھوں نے عدالت کو بتایا کہ عطاالحق قاسمی کیس میں سپریم کورٹ نے پرویز رشید کو بھی رقم واپس کرنے کا حکم دیا تھا مگر آج تک اس حکم پر انھوں نے عمل نہیں کیا، پنجاب ہاؤس کے کنٹرولر نے بتایا کہ پرویز رشید نے رقم جمع کروانے کے لیے رابطہ ہی نہیں کیا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ پرویز رشید کو رقم جمع کروانے کے لیے 24 گھنٹے کی مہلت ملی مگر انھوں نے ادائیگی نہیں کی، اعتراض کنندہ نے کہا کہ پچھلی بار الیکشن میں کچھ شقیں نکال دی گئی تھیں جس کی وجہ سے پرویز رشید الیکشن لڑ سکے۔

ٹریبونل نے ریمارکس دیے کہ الیکشن ایکٹ ہی متنازعہ ہو چکا ہے ایک شق دوسرے سے متصادم ہے، ٹریبونل نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر پرویز رشید کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ برقرار رکھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں