مئیر اور کونسلرز کو بے پناہ اختیار مل گئے، نیا بلدیاتی ایکٹ سامنے آگیا 1

مئیر اور کونسلرز کو بے پناہ اختیار مل گئے، نیا بلدیاتی ایکٹ سامنے آگیا

پنجاب حکومت کے نئے بلدیاتی ایکٹ 2021 کا مسودہ سامنے آگیا، نئے بلدیاتی نظام میں مئیرلاہور کا انتخاب براہ راست اور جماعتی بنیادوں پر ہوگا، سٹی فورٹی ٹو نے نئے مسودہ کی پریزینٹیشن کی کاپی حاصل کرلی۔

میئر لاہور ایل ڈی اے، واسا، ٹیپا، پی ایچ اے اور لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا سربراہ ہوگا۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ ، ایجوکیشن،سوشل ویلفئیر اتھاٹیز کا بھی سربراہ مقرر کر دیا گیا۔ ڈسٹرکٹ پاپولیشن کنٹرولڈ اور سپورٹس اتھارٹی مئیر کے پاس ہوں گی، میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ہاؤس کے ارکان کی تعداد 70 تک رکھی گئی۔ پہلی مرتبہ سینئر سٹیزن کی چار نشستیں رکھی گئی ہیں۔

نئے بلدیاتی نظام میں لاہور سمیت صوبہ بھر ایک ہزار 883 نیبر ہڈ کونسلز جبکہ 3ہزار 364ویلیج کونسلز ہوں گی، نئے بلدیاتی ایکٹ کے تحت بلدیاتی نمائندوں کا انتخاب جماعتی بنیادوں ہو گا۔ نبر ہڈ کونسل اور ویلیج کونسل کے الیکشن جماعتی بنیادوں پر ہوں گے، نئے بلدیاتی نظام میں 11میٹروپولیٹن کارپوریشنز ہوں گی، میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کا ہاؤس 70ممبرز پر مشتمل ہوگا، 45جنرل کونسلرز اور 25مخصوں نشستوں کی نمائندگی رکھ دی گئی۔

2ٹریڈرز کونسلر، 1سینئیر سیٹیزن ہاؤس کا ممبر ہو گا، 4یوتھ کونسلر ، 6کسان کونسلر ، دس خواتین کونسلر ہاؤس کا حصہ ہوں گے۔ دو اقلیتی کونسلرز ہاؤس ممبر بنیں گے۔ 15میونسپل کارپوریشنز ہوں گی جبکہ 109میونسپل کمیٹیاں ہوں گی۔ نئے بلدیاتی نظام میں 125ٹاؤن کمیٹیاں جبکہ 35ضلع کونسل ہوں گی، نئے بلدیاتی نظام میں 260اربن جبکہ 35رولر لوکل گورنمٹس ہوں گی۔

ٹاؤن کمیٹیوں میں نیبر ہڈ کونسلز نہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، 50لاکھ آبادی سے 1کروڑ آبادی کا ہاؤس 63ممبر پر مشتمل ہو گا۔ 11لاکھ آبادی سے لے کر 50لاکھ آبادی کا ہاؤس 56ارکان پر مشتمل ہو گا۔ 5لاکھ آبادی سے لے کر 8لاکھ کی آبادی تک کا ہاؤس 42ارکان پر مشتمل ہو گا۔ 2 لاکھ 50 ہزار سے پانچ لاکھ تک آبادی کا ہاؤس 35 ارکان پر مشتمل ہو گا، 50ہزار سے لے کر 1لاکھ 25ہزار آبادی تک کا ہاؤس 15ارکان پر مشتمل ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں