عبدالقدوس بزنجو بلامقابلہ وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب 1

عبدالقدوس بزنجو بلامقابلہ وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں سابق سپیکر اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو بلامقابلہ وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں اور نومنتخب وزیراعلیٰ شام کو گورنر ہاﺅس میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

جمعے کے روز ڈپٹی سیپکربابر موسیض خیل کی زیرِ صدارت ہونے والے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں 65 میں سے 39 اراکین موجود تھے اور ان تمام اراکین نے عبدالقدوس بزنجو کے حق میں ووٹ ڈالا۔

یاد رہے کہ میر عبدالقدوس بزنجو حال ہی میں اپنی ہی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے وزیراعلیٰ جام کمال سے ناراض اراکین کے وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار تھے۔

سنہ 2002 کے عام انتخابات میں پہلی مرتبہ سیاسی منظر پر نمودار ہونے کے بعد یہ دوسری بار ہوا ہے کہ عبدالقدوس بزنجو اپنی پارٹی کی اندرونی بغاوت کی قیادت کے باعث وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھال رہے ہیں۔

میر عبدالقدوس بزنجو پہلی مرتبہ سنہ 2018 میں بغاوت کی قیادت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بنے تھے جبکہ اس بار انھوں نے اپنی ہی پارٹی بلوچستان عوامی پارٹی کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان کے خلاف بغاوت کی قیادت کی ہے۔ دونوں سیاسی بغاوتوں میں انھیں بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کی معاونت حاصل رہی۔

عبدالقدوس بزنجو کون ہیں؟
قدوس بزنجو
میر عبدالقدوس بزنجو کا تعلق بلوچستان کے شورش زدہ علاقے آواران سے ہے۔ وہ ضلع کے علاقے جھاﺅ میں معروف سیاسی اور سماجی رہنما میر عبدالمجید بزنجو مرحوم کے ہاں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم جھاﺅ میں اپنے گاﺅں شنڈی کی سرکاری سکول سے حاصل کی جبکہ میٹرک اور ایف ایس سی کی تعلیم کوئٹہ کے مختلف تعلیمی اداروں سے مکمل کی۔

یونیورسٹی آف بلوچستان سے پرائیویٹ گریجوئیشن کرنے کے بعد انھوں نے نمل یونیورسٹی اسلام آباد سے انگلش لینگویج میں ڈپلومہ کیا۔ عبدالقدوس نے سیاست کا آغاز سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں بلدیاتی انتخابات سے کیا لیکن ایک ووٹ کے باعث وہ ضلعی ناظم نہیں بن سکے تھے۔

عبدالقدوس بزنجو نے کو بتایا کہ جب وہ ناظم نہیں بن سکے تھے تو انھوں نے سیاست چھوڑنے اور کوئی ملازمت کرنے کا فیصلہ کیا مگر وہ سرکاری ملازمت حاصل نہ کر سکے۔

عبدالقدوس
عبدالقدوس بزنجو سرکاری ملازم کیوں نہیں بن سکے؟
عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ ‘جب میں ناظم نہیں بن سکا تو میں سیاست سے مایوس ہو گیا اور میں نے سوچا کہ پی سی ایس یا کسی اور مقابلے کے امتحان میں بیٹھ کر کوئی سرکاری ملازمت وغیرہ کروں گا لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔’

انھوں نے بتایا ‘میری ملازمت کی راہ میں والد کا گریجویٹ نہ ہونا آڑے آیا کیونکہ وہ 2002 کے عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔ چونکہ میں گریجویٹ تھا اس لیے والد نے مجھے انتخاب لڑوایا اور میں 2002 میں آواران سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوا۔’

میں منتخب ہونے والے ان دو تین اراکین اسمبلی میں شامل تھا جن کی عمریں بہت کم تھیں۔

عبدالقدوس بزنجو
،تصویر کا کیپشن
ْْٰ

’لڑکے باہر چلے جائیں تاکہ اجلاس شروع ہو سکے‘

عبدالقدوس بزنجو بتاتے ہیں کہ سنہ 2002 کے انتخابات میں ان کا اور خاران سے منتخب ہونے والے ایم پی اے میر شعیب نوشیروانی کا شمار کم عمر اراکین اسمبلی میں تھا۔

’پارٹی کے ایک سینیئر رکن اسمبلی کو یہ علم نہیں تھا کہ میں اور شعیب نوشیروانی بھی اراکین اسمبلی ہیں اس لیے جب ق لیگ کے اراکین اسمبلی کا پہلا اجلاس شروع ہوا تو سینیئر رکن نے کہا کہ لڑکے باہر چلے جائیں تاکہ اجلاس شروع ہو سکے جس پر سینیئر رکن کو بتایا گیا یہ لڑکے نہیں ہیں بلکہ ایم پی ایز ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کم عمری کے باعث سابق وزیراعلیٰ جام محمد یوسف مرحوم ہمیں کابینہ میں شامل نہیں کرنا چاہتے تھے جس کے باعث ’ہم کم عمر اراکین نے بعض دیگر اراکین کے ساتھ مل کر وزیر بننے کے لیے گروپ سیون بنایا۔‘

عبدالقدوس بتاتے ہیں کہ ’ہم نے جام یوسف مرحوم کو بتایا کہ اگر آپ نے ہمیں وزیر نہیں بنایا تو ہم پارٹی میں آپ کے مخالف گروپ کی حمایت کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دباﺅ کی وجہ سے جام یوسف نے ہمیں کابینہ میں شامل کیا۔ عبدالقدوس بزنجو پہلی مرتبہ جام یوسف کی کابینہ میں وزیر امور لائیو سٹاک بنے تھے۔

وہ 2008 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے تاہم 2013 کے عام انتخابات میں دوبارہ آواران سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔

سنہ 2013 میں بھی وہ مسلم لیگ ق کی ٹکٹ پر رکن منتخب ہوئے تاہم بعد میں وہ مسلم لیگ ن کا حصہ بنے اور 2018 کے اوائل تک مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف بغاوت تک اسی کا حصہ رہے۔

بلوچستان میں وزارتِ اعلیٰ کے ’امیدوار‘ قدوس بزنجو سپیکر کے عہدے سے مستعفی

کیا بلوچستان کے بحران میں اصل کھیل کچھ اور ہے؟

بلوچستان: نئی حکومت کے لیے جوڑ توڑ کا آغاز

بلوچستان اسمبلی
پہلے کس وزیر اعلیٰ کے خلاف بغاوت کی قیادت کی؟
سنہ 2013 کے عام انتخابات میں کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کی دھمکیوں کی وجہ سے آواران میں ووٹ انتہائی کم پڑے تھے اور عبدالقدوس بزنجو انتہائی کم ووٹ لے کر رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ انھیں صوبائی کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا تاہم وہ بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر منتخب ہوئے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق جب مقتدر قوتوں نے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹانے کے لیے دباﺅ ڈالنے کا آغاز کیا تو اس کے ایک اہم قدم کے طور پر بلوچستان میں 2018 میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف بغاوت پیدا ہو گئی۔

اس بغاوت کی قیادت میں عبدالقدوس بزنجو پیش پیش تھے اور انھوں نے نواز حکومت کے وزیر اعلیٰ نواب ثناءاللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ انھوں نے حزب اختلاف کے اراکین کی حمایت سے تحریک عدم اعتماد کے لیے اتنی حمایت اکٹھی کی کہ نواب ثناءاللہ زہری کو وزارت اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔

چھ ماہ کی وزارت اعلیٰ اور نئی جماعت کا قیام
چونکہ عبدالقدوس بزنجو نے سابق وزیراعلیٰ کے خلاف بغاوت میں اہم کردار ادا کیا تھا اس لیے انھیں وزارت اعلیٰ کے لیے امیدوار نامزد کیا گیا۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے وزارت اعلیٰ کے عہدے کے لیے ان کی حمایت کی تھی لیکن وہ حکومت کا حصہ نہیں بنے تھے۔ ان کے دور حکومت میں نواز لیگ کی کوکھ سے بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے ایک نئی پارٹی کو جنم دیا گیا۔

سابق وزیر اعلیٰ نواب ثناءاللہ زہری سمیت دو تین اراکین کے سوا مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے باقی تمام اراکین بلوچستان عوامی پارٹی کا حصہ بن گئے تھے۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے بلوچستان میں پارٹی میں بغاوت پیدا کرنے اور اس کے اراکین کو منحرف کرانے کا الزام مقتدر حلقوں پر عائد کیا گیا تھا۔

بلوچستان کے سینیئر صحافی عرفان سعید کا کہنا ہے مقتدر حلقوں کی جانب سے بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے ایک متبادل قیادت لانے کی کوشش کی گئی لیکن یہ جماعت تین سال میں انتشار کا شکار ہوگئی اور اندرونی اختلافات کے باعث اس کی تنظیم سازی بھی مکمل نہیں ہو سکی۔

جام کمال کے خلاف دوسری بغاوت
سنہ 2018 کے عام انتخابات میں عبدالقدوس بزنجو آواران سے بلوچستان عوامی پارٹی کی ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔ وہ ابتداء میں وزیراعلیٰ کے امیدوار تھے لیکن کوششوں کے باوجود وہ وزیر اعلیٰ نہیں بن سکے تاہم انھیں سپیکر بلوچستان اسمبلی کے عہدے کے لیے راضی کیا گیا۔

اگرچہ وہ صوبائی اسمبلی کے سپیکر رہے لیکن ان کے اور سابق وزیر اعلیٰ جام کمال کے درمیان اختلافات منظر عام پر آتے رہے۔ 2018 کے انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی اسمبلی بلوچستان کی وہ پہلی اسمبلی تھی جس میں حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی جام کمال کی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اسمبلی کے باہر بھی احتجاج کرتے رہے۔

حالیہ بجٹ کے دوران اسمبلی کے احاطے میں احتجاج پر فوجداری مقدمات کے اندراج کے خلاف بلوچستان اسمبلی کے حزب اختلاف کے اراکین کوئٹہ میں بجلی گھر تھانے میں دو ہفتے سے زائد بطور احتجاج بیٹھے رہے۔

جام کمال
عبدالقدوس بزنجو کی طرح بلوچستان عوامی پارٹی میں متعدد وزراء اور اراکین بھی جام کمال سے ناراض ہوتے رہے۔تاہم جب جام کمال نے ناراضگی کے باعث اپنے ہی ضلع سے تعلق رکھنے والے وزیر سردار محمد صالح بھوتانی سے بلدیات کے محکمے کا قلمدان واپس لیا تو عبدالقدوس بزنجو اور حکومتی اتحاد میں شامل دیگر ناراض اراکین جام کمال کے خلاف اکٹھے ہوگئے۔

عرفان سعید کے مطابق ناراض اراکین نے پہلی مرتبہ حزب اختلاف کے اراکین کے ساتھ مل کر جام کمال کو ہٹانے کا فیصلہ کیا اور حکمت عملی بنائی۔

وہ کہتے ہیں کہ مقتدر حلقے اس بات کے حامی نہیں تھے کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے ساتھ مل کر جام کمال کو ہٹائیں اس لیے حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد کی حمایت نہ کرنے کے لیے جام کمال سے ناراض حکومتی اراکین نے یہ شرط رکھ دی کہ جام کمال خود مستعفی ہو جائیں۔

انھوں نے بتایا کہ جب جام کمال مستعفی نہیں ہوئے تو بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض اراکین دوسرے حکومتی اتحادیوں کے ساتھ مل کر خود جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے۔

بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے رکن ملک سکندر ایڈوکیٹ نے بتایا کہ تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے تین خواتین اراکین سمیت بلوچستان عوامی پارٹی کے چار اراکین کو اسلام آباد منتقل کیا گیا جس کا مقصد تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانا تھا۔

تحریک عدم اعتماد کے حامی اراکین نے ان چار اراکین کو لاپتہ کرنے کا الزام سابق وزیر اعلیٰ جام کمال پر عائد کیا تاہم سابق وزیر اعلیٰ جام کمال نے ان اراکین کو مبینہ طور پر لاپتہ کرنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے 20 اکتوبر کو اسمبلی کے اجلاس میں نہیں آئے۔

ملک سکندر نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بھی یہ الزام عائد کیا کہ حزب اختلاف کے بعض اراکین کو تحریک عدم اعتماد کا ساتھ نہ دینے کے لیے تیس تیس کروڑ روپے کی پیش کش کی گئی لیکن ناراض اراکین اور حزب اختلاف کے اراکین ڈٹ گئے جس کی وجہ سے جام کمال کو تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری سے پہلے مستعفی ہونا پڑا۔

اپنے سیاسی کیئریئر میں عبدالقدوس بزنجو کے لیے یہ دوسرا موقع تھا کہ انھوں نے ناراض اراکین اور حزب اختلاف کی تعاون سے ایک اور وزیر اعلیٰ کے خلاف بغاوت کو کامیاب کروایا۔

جام کمال کو وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کے بعد وزرات اعلیٰ کے امیدوار کے طور پر عبدالقدوس بزنجو کے مقابلے نہ صرف حکومتی اتحاد سے کوئی امیدوار سامنے آیا اور نہ ہی حزب اختلاف کی جانب سے کوئی امیدوار لایا گیا جس کے باعث ان کا دوسری مرتبہ وزیر اعلیٰ بنا یقینی ہوگیا ہے۔

عبدالقدوس بزنجو کی بغاوتوں کی کامیابی کی وجوہات کیا ہیں؟
بزنجو کی سیاسی جدوجہد کے حوالے سے کوئی بڑی تاریخ ہے نہ بلوچستان کے قبائلی معاشرے میں کوئی بہت بڑی حیثیت ہے۔ اس کے باوجود وہ دوسری مرتبہ کس طرح وزیر اعلیٰ بنے اس سوال پر بلوچستان کے سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار انور ساجدی کا کہنا ہے کہ عبدالقدوس بزنجو ایک متحمل مزاج شخص ہیں اور وہ سب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔

انور ساجدی نے کہا کہ وہ پہلے بھی چھ ماہ کے لیے وزیر اعلیٰ رہے تو انھوں نے بیوروکریسی کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام اراکین اسمبلی کے ساتھ بنا کر رکھتے ہیں اور وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شخص ہیں۔ انور ساجدی کے مطابق ‘متوسط طبقے سے تعلق کی وجہ سے ان میں فیوڈل لارڈز والا غرور اور تکبر نہیں ہے۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں