new-ccpo-lahore-ghulam-dogar

ماضی میں زمین پر قبضہ، نئے سی سی پی او لاہور بھی تنازعات کی زد میں آ گئے

لاہور: نئے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر بھی تنازعات کی زد میں آ گئے۔

تفصیلات کے مطابق نئے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو 2012 میں اوورسیز پاکستانی کی زمین پر قبضہ اور انھیں ہراساں کرنے پر معطل کیاگیا تھا۔

اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے غلام محمود کو تحقیقات میں قصور وار ثابت ہونے پر معطل کر دیا تھا، تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں غلام محمود ڈوگر کو قصور وار قرار دے دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق غلام محمود نے ایک اوورسیز پاکستانی کی زمین پر قبضہ کیا، اور مالکان کو ڈرایا دھمکایا، اور جھوٹا مقدمہ درج کرایا تھا، غلام محمود ڈوگر اس وقت بطور ڈی آئی جی آپریشنز لاہور تعینات تھے۔

واضح رہے کہ غلام محمود ڈوگر کو یکم جنوری کو سی سی پی او عمر شیخ کی جگہ تعینات کیا گیا تھا، اس سے قبل وہ آر پی او فیصل آباد تعینات تھے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے شہر میں بڑھتے جرائم کا نوٹس لیتے ہوئے غلام محمود کو سی سی پی او لاہور تعینات کیا تھا، عمر شیخ لاہور میں قبضہ مافیا کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہے تھے، جس کے باعث انہیں تبدیل کیا گیا۔

لیکن عمر شیخ کی جگہ ایک ایسے پولیس افسر کو تعینات کیا گیا جنھوں نے خود ایک شہری کی زمین پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں