naeem-bukhari-as-chairman-government-tvchallenge

نعیم بخاری کی بطور چیئرمین سرکاری ٹی وی تقرری چیلنج

اسلام آباد: پی ٹی آئی رہنما نعیم بخاری کی بطور چیئرمین سرکاری ٹی وی تقرری چیلنج کردی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں نعیم بخاری کی بطور چیئرمین سرکاری ٹی وی تقرری کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی، سماعت اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔

دوران سماعت نعیم بخاری کی بطور چیئرمین پی ٹی وی تقرری کیس میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ نعیم بخاری کی تقرری سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے، چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کافیصلہ موجود ہے ،نعیم بخاری کو عمر کی عاریت کس نے دی ہے؟

اس موقع پر وکیل نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ ڈویژن نے عمر کی رعایت دی ہے، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کابینہ ڈویژن عمر رعایت نہیں دے سکتا ،نعیم بخاری کی تقرری سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے ،سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کیس کا فیصلہ کیا جائے۔

عدالت نے ہدایت دی کی آئندہ سماعت میں نعیم بخاری کی تقرری پر عدالت کو مطمئن کریں ، بعد ازاں کیس کی مزید سماعت14 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال 23 نومبر کو وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد نعیم بخاری کی بطور چیئرمین پی ٹی وی مقرر کیا گیا، نعیم بخاری کو تین سال کے لئے چیئرمین پی ٹی وی مقرر کیا گیا ہے۔

نعیم بخاری نے اٹھارہ جون دو ہزار سولہ میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی، بعد ازاں ان کا شمار پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں میں شامل ہونے لگا، اس کے علاوہ نعیم بخاری سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ہیں جنہوں نے شریف خاندان کے خلاف پاناما پیپرز کیس سمیت متعدد مقدمات لڑے تھے ، سینئیر قانون دان نعیم بخاری پانامہ کیس میں نوازشریف کے خلاف وکالت کرچکے ہیں جب کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے کیسز میں ان کے وکیل رہ چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں