منی لانڈرنگ الزامات: برطانوی این سی اے نے شہباز شریف اور سلیمان کو بری الذمہ قرار دیدیا 1

منی لانڈرنگ الزامات: برطانوی این سی اے نے شہباز شریف اور سلیمان کو بری الذمہ قرار دیدیا

لندن: برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے شہباز شریف اور ان کے بیٹے سلیمان شہباز کو منی لانڈرنگ کے الزامات سے بری الذمہ قرار دیدیا۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے سلیمان شہباز کے خلاف برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کے بعد ایف سی اے نے ان کے بینک اکاؤنٹس کو غیر منجمند کردیا ہے۔

برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے حکومت پاکستان کی درخواست پر تقریباً دو برس کی تحقیقات کے بعد سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور ان کے بیٹے کو بری الذمہ قرار دیا اور رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔

برطانوی ایف سی اے نے ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹس کو بتایا کہ پاکستان، برطانیہ اور دبئی میں ہوئی تحقیقات میں شہباز اور سلیمان شریف منی لانڈرنگ میں ملوث نہیں، انہیں شہباز شریف اور سلیمان شہباز کے خلاف مجرمانہ طرز عمل کا کوئی ثبوت نہیں ملا جس کے بعد شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے کو منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے ہر طرح کے الزامات سے بری الذمہ قرار دینے کا معاملہ خصوصی طور پر سامنے آسکتا ہے۔

این سی اے کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے کے خلاف اکاؤنٹس منجمند کرنے کا فیصلہ ختم کردیا۔

شہباز اور سلیمان کی کوئی بریت نہیں ہوئی اور نہ کوئی ٹرائل تھا، مشیر داخلہ و احتساب
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے داخلہ و احتساب مرزا شہزاد اکبر نے اس حوالے سے ردعمل کا اظہار کیا۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں شہزاد اکبر نے کہا کہ شہباز شریف اور سلیمان شہباز کی کوئی بریت نہیں ہوئی اور نہ کوئی ٹرائل تھا، نیشنل کرائم ایجنسی نے فنڈز منجمد کیے تھے جبکہ این سی اے نے ان فنڈز کی مزید کوئی تفتیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

ان کا کہنا تھاکہ سلیمان شہباز اپنے اور والدکے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں احتساب عدالت کے مفرور ہیں، نیشنل کرائم ایجنسی نے فنڈز کی تفتیش روکنے کا حال ہی میں فیصلہ کیا ہے، این سی اے نے یہ فنڈز عدالت کے ذریعے ریلیز کرنے پر اتفاق کیا لہٰذا ریلیز آرڈر کا مطلب نہیں کہ فنڈز جائز ذرائع سے وصول ہوئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ این سی اے نے سلیمان شہباز اور بعض اہل خانہ کے خلاف تفتیش ریکوری یونٹ یا نیب کی درخواست پر نہیں کی تھی، یہ ایک بینک کی این سی اے کو مشکوک ٹرانزکشن سےمتعلق دی گئی اطلاع کا نتیجہ ہے، سلیمان شہباز کی طرف سے بعض فنڈز 2019 میں پاکستان سے برطانیہ منتقل کیے گئے، یہ فنڈ برطانوی حکام اور این سی اے نے مشکوک ٹرانزکشن قراردی تھی جبکہ این سی اے نے ان فنڈز کے خلاف عدالت سے منجمد کرنے کے احکامات لیے تھے۔

واضح رہے کہ شہبازشریف،سلیمان شہباز کےبینک اکاؤنٹس دسمبر2019 میں عدالتی حکم پرمنجمدکیےگئےتھے۔

شہبازشریف اور سلیمان شہباز کے بینک اکاؤنٹس کو اعلیٰ درجےکی تحقیقات سے مشروط کیا گیا تھا جبکہ ان اکاؤنٹس کو پاکستان کی برطانوی حکومت سےکرپشن کاپیسہ واپس لانےکی درخواست کےبعدمنجمد کیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں