khutba-e-hajj-2021-upd

عداوت اور نفرت کو ختم کرنا چاہیئے، اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا: خطبہ حج 2021

مکہ مکرمہ: دین اسلام کے اہم ترین رکن حج 2021 کا خطبہ میدان عرفات میں دیا گیا، خطبہ حج کے بعد حجاج کرام نماز ظہر اور عصر ایک ساتھ ادا کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق مکہ مکرمہ میں سال 1442 ہجری کے حج کا خطبہ میدان عرفات کی مسجد نمرہ میں دیا گیا۔ خطبہ حج مسجد نبوی ﷺ کے امام شیخ بندر بن عبد العزیز دیا۔

شیخ بندر بن عبد العزیز نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا، اللہ کے سوا کسی اور کو نہ پکارو، اللہ تعالیٰ کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا۔ اپنی نمازوں کی حفاظت کرو۔ ایسے عبادت کرو جیسے تم اللہ کو دیکھ رہے ہو، اللہ نے لوگوں کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے، قرآن میں ہے جس نے تمہیں اللہ کے آگے جھکایا وہ محسن ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، پرہیز گاری اختیار کرو، ایمان کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ زکوٰة کی ادائیگی کرو۔

خطبے میں کہا گیا، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، اللہ نے انسانوں کی اعلیٰ معیارکی تخلیق کی اور دنیا میں بھیجا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا زمین پر فساد نہ پھیلاؤ، بے شک اللہ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا والدین کے ساتھ احسان کا معاملہ کرو، بے شک اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

خطبے میں کہا گیا کہ اللہ ہمیشہ اچھائی کا درس دیتا ہے، گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ نے فرمایا میری رحمت سب کے لیے وسیع ہے۔ رمضان المبارک کے روزے مسلمانوں پر فرض کیے گئے ہیں، اللہ نے فرمایا، اے ایمان والو، اپنے وعدوں اور حقوق کو پورا کرو۔ رشتے داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ احسان کرو، آپس میں مساوات اور اخوت سے رہیں۔

خطبے میں کہا گیا، اللہ نے فرمایا یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ احسان کرو، اللہ نے فرمایا تمام مخلوقات کے ساتھ احسان کا معاملہ کرو۔ اللہ کی اطاعت کرو اور اسی سے ہی مدد مانگو، اللہ تعالیٰ ہمارے ہر عمل کے مطابق حساب لے گا، عداوت اور نفرت کو ختم کرنا چاہیئے، حج اسلام کا پانچواں رکن ہے جو استطاعت رکھتا ہے وہ حج کرے۔

خطبے میں کہا گیا کہ جب جانور کو ذبح کرو تو اچھے سے کرو تاکہ اسے تکلیف نہ ہو، معاشرے اور معاشرتی معاملات میں احسان قائم کرو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، تقویٰ اختیار کرنے والے ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ قرآن میں حکم ہے اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا رویہ رکھو، دنیا میں جو احسان کرے گا تو آخرت میں اس کا بھلا ہوگا، اللہ نے توبہ کا دروازہ بندوں کے لیے ہمیشہ کھول رکھا ہے۔

خطبے میں کہا گیا، لوگوں کی طرف سے آنے والی تکالیف اور مسائل پر صبر کرو، تم احسان کرو اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے، اللہ کی رحمت بہت قریب ہے۔ موت اور زندگی کو اس لیے پیدا کیا گیا تاکہ آزمایا جا سکے کون اچھے عمل کرتا ہے۔

خطبہ حج کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں ایک وقت میں قصر کر کے پڑھی جائیں گی اور پھر غروب آفتاب کے بعد حجاج کرام مزدلفہ روانہ ہو جائیں گے۔

یاد رہے کہ رواں برس کرونا وائرس کی وجہ سے صرف سعودی عرب میں مقیم 60 ہزار ملکی اور غیر ملکی افراد ہی حج کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں