کراچی میں نالوں‌ پر قائم تجاوزات کی تفصیلات 1

کراچی میں نالوں‌ پر قائم تجاوزات کی تفصیلات

کراچی: شہر قائد میں برساتی نالوں اور سرکاری اراضی پر درجنوں مارکیٹیں اورو دیگر تجاوزات قائم ہیں، جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔

نئی کراچی سندھی ہوٹل میں 1 ہزار 200 سے زائد دکانیں نالے پر قائم ہیں جنہیں عدالت نے خالی کرنے کے احکامات جاری کیے ، جس پر انکروچمنٹ آپریشن تو ہوا مگر ضلعی انتظامیہ کی عدم دلچسپی کے باعث آپریشن روک دیا گیا۔

اسی طرح اردو بازار میں بھی نالے پر دکانیں قائم کی گئیں ہیں، کے ایم سی کا محکمہ اسٹیٹ ان دکانوں کے خلاف کارروائی میں ناکام رہا جبکہ جوبلی مارکیٹ کی دکانوں کومتبادل جگہ نہ ملنے پر بھی انکروچمنٹ آپریشن روک دیا گیا۔

علاوہ ازیں فیچر نالہ پر قائم مکانات اور دکانوں کےخلاف بھی آپریشن ٹال مٹول کا شکار رہا جبکہ شیرشاہ  پراچہ چوک پربھی تجاوزات ہٹانےکیلئے اقدامات نہیں کیے گئے۔

کراچی میونسپل کارپوریشن کے ذرائع نے خود بھی تصدیق کی ہے کہ سیکڑوں دکانیں، بازار اور مکانات برساتی اور دیگر نالوں پر قائم ہیں۔

یاد رہے کہ آج کراچی کے علاقے شیرشاہ پراچہ چوک پر نالے پر قائم دو منزلہ عمارت گیس لیکج دھماکے سے زمیں بوس ہوگئی، جس میں اب تک 16 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

شیر شاہ میں پیش آنے والا واقعہ پہلا نہیں ہے بلکہ اس سے قبل رواں سال ہی نالے پر قائم جوبلی مارکیٹ بھی دھماکے سے زمیں بوس ہوگئی تھی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں