islamabad-usama-nadeem-satti-murder-father-statement

’’اسامہ کی ایک دن پہلے تلخ کلامی ہوئی، اہلکاروں نے دھمکی دی تھی‘‘

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں پولیس کی فائرنگ سے قتل ہونے والے بے گناہ نوجوان اسامہ کے والد نے انکشاف کیا ہے کہ بیٹے کی ایک روز قبل اہلکاروں سے تلخ کلامی ہوئی تھی جس پرپولیس نے اُسے مزہ چکھانے کی دھمکی دی تھی۔

اسلام آباد کے علاقے ایف 10 میں پولیس اہلکاروں نے جعلی مقابلے میں 21 سالہ نوجوان اسامہ ندیم ستی کو فائرنگ کر کے قتل کردیا، پولیس نے واقعے کو مقابلہ قرار دیا مگر ابتدائی تحقیقات میں یہ دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا۔

مقتول نوجوان کے والد نے تھانہ رمنا میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اسامہ کو منصوبہ بندی کے تحت مارا، وہ رات 2 بجے دوست کو چھوڑ کر واپس آرہا تھا تو اہلکاروں نے اُسے 17 گولیاں ماریں۔

مقتول کے والد نے انکشاف کیا کہ اسامہ کی ایک روز قبل اہلکاروں سےتلخ کلامی ہوئی تھی،جس پر اہلکاروں نے اُسے جلد مزہ چکھانے کی دھمکی دی تھی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ

پمز اسپتال کے ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسامہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار ہوگئی جس کے بعد وہ پولیس حکام کے حوالے کردی گئی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسامہ کو مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا، اُس کی موت گولیاں لگنےکے5سے30منٹ بعد ہوئی، سینے پر لگنے والی گولی کی وجہ سے خون بہت زیادہ ضائع ہوا جو اُس کی وجہ موت بنا، اس  گولی نےدائیں  پھیپھڑےکو  شدید متاثر کیا، جس کی وجہ سے پھیپھڑے میں دو لیٹر خون جمع ہوگیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسامہ کے جسم پر زخموں کے گیارہ نشانات پائے گئے جبکہ اُس کو جسم کے 6 مختلف حصوں پر گولیاں لگیں جن میں سے پانچ آر پار ہوئیں جبکہ پوسٹ مارٹم کے دوران جسم میں سے صرف ایک گولی برآمد ہوئی، میڈیکل رپورٹ کے مطابق اسامہ کو سر، چھاتی، بازو اور پیٹ میں گولیاں لگیں جبکہ بائیں بازو ، دائیں کلائی اور کاندھا بھی زخمی تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا مؤقف

شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد واقعے کا مقدمہ درج ہوگیا، جس میں ایسی دفعات لگائی گئیں ہیں کہ قاتل بچ نہیں پائیں گے، متاثرہ خاندان کے ساتھ انصاف ضرور ہوگا‘۔  وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ یہ بہت افسوس ناک واقعہ ہے، اہلکاروں پر سزائے موت کی دفعات بھی لگائی گئی ہیں۔

پولیس حکام نے اسلام آباد کے ایف ٹین میں پیش آنے والے واقعے کو ڈکیتی اور مقابلہ قرار دینے کی کوشش کی مگر بعد میں خود ہی اعتراف کیا کہ اکیس سالہ اسامہ بے گناہ تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہےڈکیتی کی اطلاع پر سفید مشکوک گاڑی روکنے کی کوشش کی تھی جب وہ نہ رکا تو اہلکاروں نے تعاقب کیا اور ٹائر پر گولی ماری جس میں سے دو گولیاں ڈرائیور کو لگیں۔

پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے قتل ہونے والے اسامہ کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی جس میں علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور سری نگر ہائی وے پر احتجاج کیا۔بعد ازاں پانچ اہلکاروں کی گرفتاری اور مقدمہ درج ہونے کے بعد مظاہرین منتشر ہوئے جس کے بعد ہائی وے کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔

چیف کمشنر نے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کاحکم دیتے ہوئے نوٹی فکیشن جاری کردیا جس میں بتایا گیا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کوانکوائری افسرمقررکیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں