حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان معاہدے کے نکات سامنے آگئے 1

حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان معاہدے کے نکات سامنے آگئے

حکومت کی جانب سے قائم کی گئی خصوصی کمیٹی اور کالعدم ٹی ایل پی کے درمیان معاہدےکےنکات سامنے ‏آگئے۔

حکومتی ٹیم اور ٹی ایل پی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں طے ‏پانے والے معاہدے کے چند نکات سامنے آئے ہیں تاہم تحریری نکات جلد جاری کیے جائیں گے۔

معاہدے کے تحت ٹی ایل پی کی جانب سے احتجاج آج ختم کر دیا جائےگا اور احتجاج کے شرکا کےخلاف ‏کارروائی نہیں کی جائےگی، شرکاء پرُامن طریقےسے اپنےگھروں کوروانہ ہوں گے۔

معاہدہ کے مطابق ٹی ایل پی کے خلاف عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات کےفیصلےعدالتیں ہی کریں گی اور ٹی ‏ایل پی آئندہ کسی پرُتشدد احتجاج کاحصہ نہیں بنےگی۔

حکومت پاکستان اور کالعدم جماعت کے درمیان معاہدہ طے پا گیا: مفتی منیب الرحمٰن
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیر مملکت علی محمد خان اور مذہبی اسکالر مفتی منیب الرحمٰن نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جبکہ تحریک لبیک شوریٰ کے علامہ غلام عباس فیضی اور مفتی محمد عمیر بھی پریس کانفرنس میں شریک ہوئے۔
مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ مسلح افواج کے جوان دفاع وطن اور پولیس کے جوان فرض منصبی ادا کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ تحریک لبیک کے دھرنے پر وزیر اعظم نے سنجیدہ اور ذمہ داران پر مشتمل 3 رکنی کمیٹی قائم کی، حکومتی کمیٹی میں شاہ محمود قریشی، اسد قیصر اور علی محمد خان شامل تھے۔

مفتی منیب نے کہا کہ میں وزیر اعظم کا شکر گزار ہوں کہ جو کمیٹی قائم کی اسے امپاور کیا، کمیٹی نے بھی سنجیدگی سے مسئلے کے حل کے لیے کردار ادا کیا۔ ایسا ہی رویہ ٹی ایل پی کی شوریٰ کی طرف سے ملا۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے میں جو طے پایا ہے اس میں سعد رضوی کی تائید اور حمایت حاصل ہے، مذاکرات کسی جبر اور تناؤ کے ماحول میں نہیں ہوئے۔ مذاکرات سنجیدہ، ذمہ دارانہ اور آزادانہ ماحول میں ہوئے۔ حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان اتفاق رائے سے معاہدہ طے ہو چکا ہے۔

مفتی منیب کا کہنا تھا کہ ملک میں امن، سلامتی اور عافیت کے لیے مخلصانہ جدوجہد کے لیے میڈیا کو بھی حصہ ڈالنا چاہیئے۔ اللہ کا کرم ہے کسی ناخوشگوار صورتحال کے پیدا ہونے سے پہلے یہ فیصلہ ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نکات جلد سامنے آجائیں گے، ہم نے 12 گھنٹے مسلسل کاوش اور محنت کی جس کے اچھے اختتام کو پہنچے، معاہدے کے نتیجے میں اسٹیئرنگ کمیٹی بنائی ہے جو اس کی نگرانی کرے گی، علی محمد خان اسٹیئرنگ کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ صوبائی وزیر راجہ بشارت، وفاقی سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری داخلہ پنجاب کمیٹی کے رکن ہیں۔

مفتی منیب کا کہنا تھا کہ اسٹیئرنگ کمیٹی آج سے ہی فعال ہوجائے گی، یہ معاہدہ ایسا نہیں کہ دوپہر کو دستخط ہوجائیں اور شام کو کہا جائے کہ اس کی قانونی حیثیت نہیں۔ ذمہ داروں نے یقین دہانی کروائی کہ معاہدے پر مکمل عمل کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں