election-commission-report

اوپن بیلٹ سے متعلق الیکشن کمیشن کی رپورٹ اطمینان بخش نہیں ، سپریم کورٹ

اسلام آباد: عدالت عظمیٰ نے سینیٹ الیکشن سے متعلق صدارتی ریفرنس پر الیکشن کمیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہارکردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے سینیٹ الیکشن پر صدارتی ریفرنس کی سماعت کی، عدالتی حکم پر چیف الیکشن کمشنر پیش ہوئے اور اپنا جواب داخل کرایا۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی رپورٹ پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ اطمینان بخش نہیں ، الیکشن کمیشن معاملےکا جائزہ لے کر رپورٹ دے، اہم قانون سازی سے متعلق الیکشن کمیشن خاموش نہیں رہ سکتا۔

چیف جسٹس آٖف پاکستان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ الیکشن کمیشن آزاد ہے، تمام پہلوؤں کا جائزہ لیکر رپورٹ دے۔

اوپن بیلٹ سے متعلق الیکشن کمیشن کی رپورٹ اطمینان بخش نہیں ، سپریم کورٹ 1

دوران سماعت الیکشن کمیشن نے قابل شناخت بیلٹ پیپرز کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ یہ نہیں بتا سکتے کہ ووٹ کس نے ڈالا؟ سینیٹ کے بیلٹ پیپر پر سیریل نمبر نہیں ہونا چاہیے، قابل شناخت بیلٹ پیپر کیلئے آئین میں ترمیم کرنا ہو گی۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے چیف الیکشن کمشنر سے استفسار کیا کہ آپ نے سینیٹ الیکشن میں ووٹوں کی خریدو فروخت روکنےکیلئےکیا اقدامات کیے؟جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن امیدواروں سےووٹ نہ خریدنے کاحلف لےسکتا ہے؟۔

جس پر چیف الیکشن کمشنر نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ الیکشن کمیشن ووٹوں کی خرید و فروخت کا نوٹس لے چکا ہے، سامنے آنیوالی ویڈیو کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس بلا لیا ہے، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 2018کی ویڈیو کا الیکشن کمیشن کو آج پتہ چلا؟؟، ساتھ ہی انہوں نے معنی خیز فقرہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ “جانے نہ جانےگل ہی نہ جانےباغ تو سارا جانےہے“۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے دوران سماعت استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے کسی سینیٹر کونااہل کیا؟چیف الیکشن کمشنر نے جواب دیا کہ کرم میں ضمنی انتخابات میں کرپٹ پریکٹس پر نوٹس لیا، کل سیاسی جماعت کےجلسےمیں اراکین اسمبلی کی شرکت کابھی نوٹس لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں