کیا ہیں پنڈورا پیپرز 1

کیا ہیں پنڈورا پیپرز

117 ممالک میں 600 سے زائد صحافی 14 ذرائع سے حاصل فائلوں کی جانچ کر رہے ہیں جن کی خبریں آج سے شائع کی جا رہی ہیں۔

یہ ڈیٹا واشنگٹن ڈی سی میں بین الاقوامی کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) نے حاصل کیا ہے جو اب تک کی سب سے بڑی عالمی تحقیقات میں 140 سے زائد میڈیا اداروں کے ساتھ مل کام کر رہی ہے۔

پاکستان میں جنگ/جیو گروپ سے وابستہ صحافی عمر چیمہ اور فخر درانی نے اس میں حصہ لیا۔

پیپرز میں کیا بے نقاب کیا گیا؟

پنڈورا پیپرز لیک میں 64 لاکھ دستاویزات، تقریبا 30 لاکھ تصاویر، 10 لاکھ سے زیادہ ای میلز اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ سپریڈشیٹ شامل ہیں۔

فائلوں سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کے کچھ طاقتور ترین لوگ جن میں 90 ممالک کے 330 سے ​​زیادہ سیاستدان بھی شامل ہیں، اپنی دولت چھپانے کے لیے خفیہ آف شور کمپنیوں کا استعمال کرتے ہیں۔

‘آف شور’ سے ہماری کیا مراد ہے؟

پنڈورا پیپرز، کمپنیوں کے ایک ایسے پیچیدہ نیٹ ورک کو ظاہر کرتے ہیں جو سرحدوں کے پار قائم ہیں، اکثر پیسے اور اثاثوں کی پوشیدہ ملکیت ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر کسی کے پاس برطانیہ میں جائیداد ہو سکتی ہے لیکن وہ دوسرے ملکوں میں قائم کمپنیوں کی زنجیر یا “آف شور” کے ذریعے اس کا مالک بن سکتا ہے۔

یہ غیر ملکی ممالک یا علاقے وہاں ہوتے ہیں جہاں کمپنیاں قائم کرنا آسان ہے اور ایسے قوانین ہیں جن کی وجہ سے کمپنیوں کے مالکان کی شناخت مشکل ہو جاتی ہے۔

وہاں کم یا کوئی کارپوریشن ٹیکس نہیں ہے۔

ان جگہوں کو اکثر ٹیکس ہیون یا خفیہ دائرہ اختیار کہا جاتا ہے۔ ٹیکس کے ٹھکانوں کی کوئی حتمی فہرست نہیں ہے لیکن سب سے زیادہ مشہور مقامات میں برٹش اوورسیز ٹیرٹریز جیسے جزائر کیمین اور برٹش ورجن آئی لینڈ کے علاوہ سوئٹزرلینڈ اور سنگاپور جیسے ممالک شامل ہیں۔

کیا ہر آف شور کمپنی غیرقانونی ہے؟

اگر قانون کے مطابق آف شور کمپنی ڈکلیئر کی گئی ہو اور وہ کمپنی کسی غیرقانونی کام کیلئے استعمال نہ ہو تو آف شور کمپنی بنانا بذات خود کوئی غیرقانونی عمل نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں