قاتل کو اگلی صف میں بٹھایا گیا، پاکستان کے ہر دلعزیز وزیراعظم لیاقت علی خان کی شہادت کے پیچھے کون تھا؟ 1

قاتل کو اگلی صف میں بٹھایا گیا، پاکستان کے ہر دلعزیز وزیراعظم لیاقت علی خان کی شہادت کے پیچھے کون تھا؟

سولہ اکتوبر 1951 ء یعنی آج سے ٹھیک ستر سال پہلے پاکستان کے ہر دل عزیز وزیراعظم لیاقت علی خان کو پنڈی کے کمپنی باغ میں بھرے جلسے میں شہید کردیا گیا- کیا اس شہادت کے پیچھے کوئی بیرونی ہاتھ تھا، یا یہ ایک خالص ملکی معاملات سے جڑی سازش تھی، یہ معاملہ کیا تھا- اس قیاس کیا جاسکتا ہے کہ کوئی بیرونی قوت اس کے پیچھے کارفرما تھی- لیاقت علی خان پر فائر کرنے والے سید اکبر کو موقع پر ہی مار دیا گیا- لیاقت علی خان نواب زادہ ہونے کے باوجود اس ملک کی خاطر اپنا ٹھاٹ باٹ چھوڑ کر آئے تھے، کہا جاتا ہے، شہادت کے بعد جب ان کی شروانی کے بٹن کھولے گئے تو اندر بنیان بھی پھٹا ہوا تھا۔

لیاقت علی خان کے حوالے سے پہلی کتاب لکھنے والے پروفیسر ضیاء الدین احمد صاحب نے لیاقت علی خان سے آخری ملاقات کے حوالے سے بتایا( اشاعت خصوصی بحوالہ جنگ 16 اکتوبر 2008 )ضیاء الدین تم بھی آنا راولپنڈی ہماری تقریر سننے- آگے جاکر اسی تحریر میں لیاقت علی خان کے حوالے سے لکھا ہے ’’ میں مسلم دنیا کو بتاؤں گا ہمارے عزائم کیا ہیں مسلم عالمی اتحاد کے بغیر ہم نہیں رہ سکتے- یہ اتحاد کیوں ضروری ہے اور اس کے بارے میں ہم تاریخی حقائق بیان کریں گے‘‘ اور اس کے بعد ان کو کس طرح راستے سے ہٹا دیا گیا۔

عام طور پر آج لیاقت علی خان پر تنقید ہوتی کہ روس کی دعوت پہلے ملی تھی تو روس جاتے، ذرا تحقیق سے اس کی اصل کہانی کا علم مجھے ہوا، جو یہاں پیش ہے روس کی دعوت کیسے ملی اس کی کہانی کا ایک سرا مجھے پاکستان کے سب سے بڑے اخبار جنگ کی چودہ اکتوبر 2012 ء کی اشاعت میں سنڈے میگزین کے صفحہ 12 پر ملا –

جون 1949 لیاقت علی خان کو تہران میں روسی ناظم المور کی طرف سے پاکستان کے سفیر راجا غضنفر علی خان کے ذریعے روس کے دورے کی زبانی دعوت ملی جو انھوں نے قبول کر لی- پاکستانی سفیر کو روس کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ روسی حکومت 16 اگست کو ماسکو میں پاکستانی وزیر اعظم کے خیر مقدم کے لئے تیار ہے- حکومت پاکستان کی جانب سے اسی سفارتی چینل سے یہ پیغام بھیجا گیا کہ پاکستان کی یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم کا پاکستان میں ہونا ضروری ہے مگر روسی حکومت نے نئی تاریخ دینے کے بجائے یہ تجویز رکھ دی کہ اس دورے سے قبل سفارتی تعلقات قائم کئے جائیں-

اسی عرصے میں صدر ٹرومین کی جانب سے قائد ملت کو دعوت مل چکی تھی اور وزیر اعظم پاکستان مئی 1950 میں امریکی دورے پر روانہ، بلکہ قارئین کو بتاتا چلوں لندن سے وہ خصوصی امریکی طیارے انڈی پینڈنٹ کے ذریعے واشنگٹن اترے جہاں امریکی صدر ٹرومن نے کابینہ کے ہمراہ ان کا استقبال کیا-

اخبار مزید لکھتا ہے 25مئی کو بوسٹن ہی میں امریکی صحافیوں سے بات چیت کے دوران لیاقت علی خان نے کہا کہ انہوں نے روس کے دورے کی دعوت قبول کر لی ہے- لیاقت علی خان نے امریکی دباؤ کی بھی پروا نہ کی بلکہ امریکہ کے دورے سے واپس آنے کے ایک سال بعد کمیونسٹ چائنہ کو تسلیم کرلیا-

لیاقت علی خان کسی ایک بلاک کا حصہ نہیں بنانا چاہتے تھے پاکستان کو، وہ پاکستان کو ایک جاندار ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے، کمپنی باغ میں صرف لیاقت علی خان شہید نہیں ہوئے ، ان کے عزائم ، پاکستانی قوم کی تمناؤں کا خون بھی کیا گیا- ان کے قتل کے پیچھے کون تھا، کھلے الفاظ میں قیاس تو کیا جاسکتا ہے، پر جس طرح یہ واردات پیش آئی،( بحوالہ ڈان 16 اکتوبر 2015 ) سی آئی ڈی کے ہوتے ہوئے حملہ آور سید اکبر کو اگلی صف میں بٹھایا گیا-

اسی خبر میں مزید انکشافات بھی ہیں جو سمجھنے والوں کے لئے کافی اہم ہوں گے۔ میرے ذہن میں میرے بچپن کی درسی کتاب میں لکھا لیاقت علی خان کا آخری جملہ گردش کر رہا ہے ’’ اے ﷲ پاکستان کی حفاظت کرنا‘‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں