سروس سے کروڑوں روپے کمائے ۔۔ جانیے سروس کے مالک کے بارے میں وہ معلومات، جو بہت کم لوگ جانتے ہیں 1

سروس سے کروڑوں روپے کمائے ۔۔ جانیے سروس کے مالک کے بارے میں وہ معلومات، جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

اسکول کالج ہو یا دفتر، جوتے لینے کے لئے مشہور زمانہ سروس شوز کا رخ لازمی کیا جاتا ہے۔ سروس شوز صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ایک مشہور برانڈ ہے جو اپنے بہترین معیار کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم آپ کو ان تین دوستوں کی دلچسپ کہانی سنائیں گے جنھوں نے اس بزنس کی بنیاد رکھی اور پھر اسے آسمان کی بلندیوں تک پہنچادیا۔

تین دوست جو شروعات میں کامیاب نہ تھے
یہ کہانی پاکستان بننے سے پہلے کی ہے جب یہ تینوں دوست اتنے پڑھے لکھے ضرور تھے کہ کوئی اچھی سرکاری نوکری حاصل کرسکیں۔ محمد حسین کے والد اپنی سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوچکے تھے اس لئے ان پر چار چھوٹے بھائیوں کی ذمے داری آگئی تھی۔ اس ذمے داری کو نبھانے کے لئے انھوں نے انشورنس کا کام شروع کیا۔ اسی دوران ان کے بچپن کے دوست نذر محمد بھی ساتھ مل گئے لیکن دونوں کو ہی اپنے اپنے شعبوں میں ناکامی ہوئی۔ اسی طرح ان کے تیسرے دوست محمد بھی مارکیٹنگ کے شعبے میں جاکر مطمئن نہ تھے۔ لیکن اس کے باوجود ان تینوں میں سے کوئی بھی سرکاری ملازمت نہیں کرنا چاہتا تھا جو اس زمانے میں بہت مقبول تھی۔

52 روپے سے کاروبار شروع کیا
یہ وقت دوسری جنگ عظیم کے بعد تھا تو ان تینوں دوستوں نے سوچا کہ فوجیوں کو بہت سی چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان تینوں دوستوں نے اپنی جمع پونجی سے 63روپے اکھٹے کیے اور 52 روپے میں ایک جگہ کرائے پر لے کر کام کا آغاز کیا۔ ان کو پہلا آرڈر پولیس کے لئے چپل بنانے کا ملا جس کے لئے ان کے پاس نہ ہنر تھا اور نا ہی کسی قسم کی مشینری۔ اس کے باوجود ان تینوں نوجوانوں نے ہمت نہیں ہاری اور گجرات کے مقامی موچیوں کے پاس جاکر آرڈر مکمل کروایا۔ اس کے بعد مچھر دانی، وردی، ترپال اور پیٹیاں مختلف قسم کے آرڈرز ملے جو انھوں نے پورے کیے۔ اسی طرح یہ ایک چھوٹی سی کمپنی کے مالک بن گئے۔

پاکستان کی آزادی کے بعد
لیکن ہندوستان اور پاکستان کی علیحدگی کے وقت کمپنی کو پھر مسائل سے گزرنا پڑا۔ سرحد پار رہنے والے گاہک اور سپلائرز ہمیشہ کے لئے بچھڑ گئے اور ادائیگیاں بھی ادھوری رہ گئیں۔ اس بھاری نقصان کی وجہ سے حکومت نے لاہور مال روڈ پر سروس لمیٹڈ کو ایک دکان الاٹ کی۔

فوجی بوٹ اور باٹا سے رقابت
چوہدری حسین نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ باٹا اس زمانے میں بھی موجود تھا اور فوجی بوٹ بنانے کا ٹھیکا باٹا کو ہی دیا جاتا تھا۔ “سنا ہے کہ ایک بار بریگیڈیئر صاحب بوٹوں کے معائنے کے لیے باٹا شو فیکٹری گئے۔ انھوں نے بوٹوں میں کچھ نقائص نکالے تو مینیجر نے کہا اس سے بہتر بوٹ نہیں بن سکتا، صرف ہم آرمی بوٹ بنا سکتے ہیں۔ بریگیڈیئر صاحب خاموش رہے۔‘ اس واقعے کے کچھ عرصے بعد ایک حکومتی عہدیدار نے سروس کو فوجی بوٹ بنانے کا مشورہ دیا لیکن اس وقت بھی آرمی بوٹ بنانے والی مشینری ان کے پاس موجود نہیں تھی۔ لیکن سروس نے یہ کام بھی بخوبی انجام دیا اور باٹا سے کاروباری رقابت کا آغاز ہوا۔

ہمیشہ سے باٹا کو ٹکر دینی چاہی
سروس کے مسٹر اکرم کہتے ہیں کہ اپنی ابتدا سے سروس کی کوشش رہی ہے کہ وہ باٹا کو ٹکر دے سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شروع میں باٹا کی دکانوں کے پاس سروس کی دکانیں کھولی گئیں تاکہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جائے۔ لیکن بعد میں ایسا بھی ہوا کہ مقابلہ اس قدر سخت ہو گیا کہ باٹا کو ان جگہوں پر نئی دکانیں کھولنا پڑیں جہاں سروس کی دکانیں موجود تھیں۔

نو ماسک نو سروس
آج جب اس بات کو دہائیاں گزر چکی ہیں اور سروس کی بنیاد رکھنے والے تین دوستوں کی تیسری نسل اس کاروبار کو چلا رہی ہے تو بھی باٹا سے ان کی کاروباری رقابت برقرار ہے۔ یہاں تک کہ کورونا کے دور میں باٹا نے اپنی دکان پرانگریزی میں لکھوایا “نو ماسک، نو سروس“ جس کا بظاہر مطلب یہ ہے کہ بغیر ماسک لگائے جو شخص آئے گا باٹا اسے خدمات نہیں فراہم کرے گا لیکن باٹا نے اس جملے میں سروس کی اسپیلنگ وہی لکھی ہے جو سروس لمیٹڈ میں استعمال ہوتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں