ایک عام ڈاکیا اور ہٹلر کی اپنی لاش سے متعلق آخری وصیت، تاریخ انسانی کی سب سے طویل جنگ 1

ایک عام ڈاکیا اور ہٹلر کی اپنی لاش سے متعلق آخری وصیت، تاریخ انسانی کی سب سے طویل جنگ

جنگ عظیم اول میں بد ترین شکست کے بعد ورسائی کا معاہدہ دستخط کرنا جرمن قوم کی مجبوری ضرور تھا کیوں کہ شکست کے بعد وہ اپنے لیے کسی قسم کی انسانی رعایت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے- جرمن رہنماؤں نے مجبوراً اسکی شرمناک شرائط کو تسلیم کیا، لیکن اسی شرمناک معاہدے نے آگے چل کر انسانیت کے خون سے اس کا تاوان وصول کیا-

اسی شکست نے ہٹلر کو موقع فراہم کیا، پہلی جنگ عظیم میں ایک عام فوجی ڈاکیے کی حیثیت سے شرکت کرنے والا ہٹلر دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے سیاہ سفید کا مالک بن کر ابھرا۔

بیس اپریل 1889ء میں آسٹریا میں پیدا ہونے والا ہٹلر، 1914میں پہلی جنگ عظیم اول پھوٹ پڑی تو فوج میں بھرتی ہونے چلا گیا، اس کا کام ایک مورچے سے دوسرے مرچے کے درمیان پیغام رسانی کا تھا۔ جنگ کے ختم ہوئی تو جرمن قوم کو سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس جرمن قوم کی معیشت تباہ ہوکر رہ گئی-

1920 میں فوج کی نوکری کو خیر باد کہہ کر اپنی زندگی صرف سیاست کے لیے وقف کردی، جرمن ورکرز پارٹی کا نام تبدیل کر کے جرمن نیشنلسٹ پارٹی رکھ دیا گیا۔ ہٹلر نے اس پارٹی کا جھنڈا بھی ترتیب دیا جس میں آریا ء نسل کے نشان سواستیکا کو مرکز میں جگہ دی گئی، وہ ورسائی معاہدے کا ذمہ دار مخالف سیاستدانوں، مارکسسٹ اور یہودیوں کو گردانتا تھا۔

آریان نسل سب سے بہتر ہے کا بنیادی فلسفہ اجاگر کیا گیا، آسٹریا اور ہنگری سے اتحاد کے بعد پولینڈ کے خلاف پروپیگینڈا مہم کا آغاز ہوا، دنیا کو بتایا گیا کہ جرمن نسل لوگوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے اور پھر اسی کو بنیاد بنا کر جنگ عظیم کا آغاز کرتے ہوئے جرمن فوجیں پولینڈ کی سرحد میں جا گھسیں-

پولینڈ کو پامال کرنے کے بعد یوگوسلاویہ اگلا نشانہ تھا۔ روس کے ساتھ معاہدہ تو تھا لیکن، نہ ہٹلر روسی صدر جوزف اسٹالن پر بھروسہ کرتا تھا اور نہ اسٹالن کو ہٹلر سے اچھی امید تھی، ایسی صورتحال میں جلد بد دل ہو جانے کی گنجائش ہمیشہ ہوتی ہے، اور ایسا ہی ہوا- بتایا جاتا ہے سوئٹزر لینڈ میں کوئی سازش رچائی گئی، جس کی وجہ سے ہٹلر نے روس پر حملہ کردیا، یہی جنگ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا-

ابتداء میں روسی فوجیں پیچھی ہٹتی رہیں، ان کو جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا مگر جب نازی فوجیں روس میں کافی اندر داخل ہو چکیں، قریب تھا کہ سینٹ پیٹرز برگ کو جرمن فوجیں روند دیتیں، لیکن سردی کی شدت اور روسی مزاحمت کاروں نے جرمن فوجوں کو گھیر کر مارنا شروع کردیا، ادھر بحرالکاہل میں ایک اور اہم تبدیلی رونما ہوئی، جاپان جو جرمنی کا اتحادی تھا جنگ میں کود پڑا، 7 دسمبر 1941 ء کی صبح8 بجے پرل ہاربر پر حملے میں امریکی بحریہ کا کافی نقصان کیا، اگلے دن ریاست ہائی متحدہ امریکہ نے جاپان کے خلاف اعلان جنگ کردیا، جرمنی نے جاپان کے خلاف اعلان جنگ پر امریکہ کے خلاف اعلان جنگ کردیا-

ہٹلر کی یو بوٹس نے بحر اوقیانوس میں امریکی اور برطانوی بحری جہازوں پر حملے کرنا شروع کردیے۔ بحر الکال میں مڈوے کے جزائر پر ہو نے والی اہم لڑائی میں جاپانیوں کو شدید ہزیمت اٹھانا پڑی ، اسکے چاروں طیارہ بردار جہاز جنگ میں ضائع ہو گئے، نقصان امریکیوں کا بھی کافی ہوا، لیکن بہرحال وہ اس لڑائی میں کامیابی سے ابھرے، بلکہ اس کے بعد کی تمام لڑایوں میں جاپانی پسپا ہوتے نظر آئے-

آہستہ آہستہ امریکی افواج نے فلپائن پر قبضہ کر لیا، فلپائن پر اس قبل جاپانیوں کا قبضہ تھا، فلپائن کی اہمیت یہ تھی کہ امریکی بمبار طیارے یہاں سے اڑ کر جاپان پر براہ راست بم بر سا سکتے تھے- اب جاپان کی شکستیں رنگ دکھا رہیں تھی، جرمن فوجیں روس اور مشرقی یورپ میں روس سے اور برطانوی اور امریکی افواج کے ہاتھوں افریقہ اور یورپ میں شکستیں اٹھا رہی تھیں۔

6 اور 9 اگست1945 ء کو امریکہ کی جانب سے دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایٹم بم بطور ہتھیار جاپان کے خلاف استعمال کیے گئے، جاپان نے 2 ستمبر 1945 ہتھیار ڈالنے کے معاہدے پر باقاعدہ دستخط کر دیے ، ادھر جرمن مقبوضات جرمنی کے ہاتھوں سے نکل چکی تھی، نوبت برلن کو روسی اور اتحادیوں کی یلغار سے بچانے کی تھی، 16 اپریل 1945 کو برلن میں ایک جانب سے روسی اور دوسری جانب سے اتحادی فوجیں داخل ہو گئیں، لیکن جنگ کا اختتام بھی جنگ جتنا خطرناک تھا-

کہا جاتا ہٹلر نے اپنی بیوی ایوا براؤن کے ہمراہ اپنے بنکر میں خودکشی کرلی، لیکن ساتھ ہی دوسرے دعوے میں آگئے، کہا جاتا ہے ہٹلر نے وصیت کی تھی کہ اسکی اور اسکی بیوی کی لاش کسی دشمن کے ہاتھ نا لگے، اور لاشوں کو نذر آتش کردیا جائے، برلن میں ہٹلر کے بنکر کے پاس باہر دو جلی ہوئی لاشیں ضرور ملیں لیکن ، یہ دعوے سے نہیں کہا جاسکتا کہ وہ ہٹلر ہی تھا، بلکہ دوسری جانب یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ ہٹلر مفرور ہو گیا تھا، یہ تو محض ہٹلر کے حوالے سے بات تھی-

جنگ کا اختتام یہ ہوا، یورپ مشرقی اورمغربی بلاکس میں تقسیم ہو گیا، وارسا اور ناٹو دو اہم دفائی معاہدے ترتیب پائے، وارسا معاہدہ روس اور اس کے یورپین اتحادیوں پر مبنی تھا، جبکہ نیٹو سرمایہ دار امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے کیمپ کی نمائندگی کرتا تھا، نیٹو اب بھی فعال ہے اور عالمی سیاست میں اس کی اپنی حیثیت ہے ۔1939 سے 1945 تک لڑی گئی دوسری جنگ عظیم میں اندازاً لاکھوں انسان مارے گئے، لاکھوں زخمی ہوئے، کئی لاپتہ ہوئے، لیکن فائدہ صرف ان ممالک کو ہوا جن وسائل زیادہ تھے، مقبوضات زیادہ تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں