Execution of nuclear power maker, imprisonment

یومِ تکبیر: جوہری طاقت بنانے والے کو پھانسی، چلانے والا قید

کیا پاکستان کو طاقتور بنانے والے دو سویلین وزرا اعظم انتقام کا نشانہ بنے؟

پاکستان کے دو سابق وزرا  اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور  میاں محمد نواز شریف (فائل)

اکیس سال قبل 28 مئی 1998 کو بلوچستان کے علاقے چاغی میں جوہری دھماکے کرکے پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی ریاست کے طور پر سامنے آیا تھا۔ ہر سال یہ دن یادگار کے طور پر صرف مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ہی منایا جاتا ہے کیونکہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے حکم پر عالمی دباؤ کے باوجود دھماکے کیے گئے تھے۔

مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت میں دفتر خارجہ کی جانب سے گذشتہ سال یوم تکبیر پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’پاکستان جوہری عدم پھیلاؤ، عالمی امن اور اسٹریٹیجک استحکام کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ پاکستان نے ایٹمی صلاحیتوں کے استعمال میں انتہائی صبر و تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور وہ کم سے کم دفاعی صلاحیت کے اصولوں پر کاربند ہے جس سے خطے میں دفاعی توازن برقرار ہے۔‘

ایٹمی قوت، بھٹو اور نواز شریف کا انجام

سینیئر صحافی حسین نقی کے مطابق سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 28 نومبر 1972ء کو کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کا افتتاح کیا۔ انہوں نے 1965 میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے ایک بیان میں کہا تھا: ’ہم گھاس کھالیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔‘ جنرل ایوب کی کابینہ کے کئی طاقتور وزیر ایٹمی صلاحیت کے خلاف تھے۔ وزارت خارجہ کو خفیہ اطلاع مل چکی تھی کہ بھارت اعلانیہ طور پر ایٹمی ٹیکنالوجی کی مخالفت کر رہا ہے مگر خفیہ طور پر ایٹم بم بنانے کے پروگرام پر گامزن ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کو خصوصی دورے پر پاکستان بھیجا گیا، جنہوں نے بھٹو کو دھمکی دی کہ اگر انہوں نے ایٹمی پالیسی ترک نہ کی تو ان کو ’عبرتناک مثال‘ بنا دیا جائے گا۔ تاہم بھٹو نے امریکی دھمکی کو مسترد کردیا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مکمل سرپرستی کی۔

بھٹو اور میاں نواز شریف میں ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے حوالے سے امریکہ کا دباؤ قبول نہیں کیا اور دونوں کو عالمی سازشوں کے پیش نظر آمریت کے بے رحم تازیانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا جبکہ میاں نواز شریف کو قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا ہے۔ آج جب لاہور میں یومِ تکبیر منایا جارہا ہے تو ملک کے تین بار وزیراعظم منتخب ہونے والے نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں سپریم کورٹ کی دی گئی سات سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

سینیئر تجزیہ کاروں کے مطابق: ’ایٹمی ٹیکنالوجی لانے والے بھٹو کو پھانسی دی گئی، ایٹم بم بنانے والے ڈاکٹر عبد القدیرخان کو غدار قرار دیا گیا، پہلا ایٹمی بم بنانے والے ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی انکوائری شروع کر دی گئی اور ایٹمی دھماکے کرنے والے نواز شریف کو قید کر دیا گیا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ وہی لوگ عبرت کا نشان بنے جو اس پروگرام کا حصہ رہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں