پنڈورا پیپرز میں کن غیر ملکی سربراہان مملکت کے نام شامل ہیں ؟ 1

پنڈورا پیپرز میں کن غیر ملکی سربراہان مملکت کے نام شامل ہیں ؟

نامور شخصیات کے مالی امور پر مشتمل دنیا کی سب سے بڑی تحقیقات ’پنڈورا پیپرز‘ میں متعدد غیر ملکی رہنماؤں کی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہیں۔

اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ کا نام بھی پنڈورا پیپرز میں آف شورکمپنی بنانے والوں میں شامل ہے، قطر کے حکمرانوں کی آف شورکمپنیاں بھی پنڈورا پیپرز میں سامنے آئی ہیں۔

یوکرین، کینیا اور ایکواڈور کے صدور کی آف شورکمپنیاں بھی پنڈورا پیپرز میں شامل ہیں، چیک ری پبلک اور لبنان کے وزرائے اعظم کی بھی آف شورکمپنیاں نکل آئی ہیں۔
سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے نام پر بھی آف شورکمپنی پنڈورا پیپرز میں شامل ہے۔

خیال رہےکہ پنڈورا پیپرز ایک کروڑ 19 لاکھ فائلوں پر مشتمل ہیں اور تحقیقات میں دنیا کے 117 ملکوں کے 150 میڈيا اداروں کے 600 سے زائد رپورٹرز نے حصہ لیا ہے، صحافتی دنیا کی سب سے بڑی تحقیقات میں پاکستان سے دی نیوز کے عمر چیمہ اور فخر درانی شریک ہوئے۔

نامور شخصیات کے مالی امور کی تحقیقات کا کام دو سال میں مکمل ہوا اور تحقیقات کی تفصیلات چند گھنٹوں بعد سامنے آئیں گی، نامور شخصیات کے مالی امور پر مشتمل پنڈور ا پیپرز میں پاناما پیپرز سے زیادہ پاکستانیوں کے نام شامل ہیں۔

پنڈورا پیپرز میں700 سے زائد پاکستانیوں کے نام شامل
واضح رہے کہ 2016 میں جاری ہونے والے پاناما پیپرز میں 444 پاکستانیوں کے نام شامل تھے جب کہ پنڈورا پیپرز میں 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام شامل ہیں۔

پنڈورا پیپرز میں جن معروف پاکستانی شخصیات کے نام آئے ہیں ان میں وزیرخزانہ شوکت ترین، وفاقی وزیر مونس الٰہی، سینیٹر فیصل واوڈا، پنجاب کے سابق وزیر عبدالعلیم خان ،مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار کے بیٹے شامل ہیں۔

پنڈورا پیپرز میں پیپلز پارٹی کے شرجیل میمن وفاقی وزیرصنعت خسرو بختیارکے اہل خانہ، وزیراعظم کےسابق معاون خصوصی وقارمسعود کے بیٹے اور ایگزیکٹ کے مالک شعیب شیخ کی بھی آف شور کمپنی نکل آئی ہے۔

اس کے علاوہ پنڈورا پیپرزمیں کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران،کچھ بینکاروں، کاروباری شخصیات اور کچھ میڈیا مالکان کی آف شورکمپنیاں بھی سامنے آئیں ہیں۔

خیال رہے کہ اگر قانون کے مطابق آف شور کمپنی ڈکلیئر کی گئی ہو اور وہ کمپنی کسی غیرقانونی کام کے لیے استعمال نہ ہو تو آف شور کمپنی بنانا بذات خود کوئی غیرقانونی عمل نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں