جرمنی: تین دہائیوں میں مہنگائی کی شرح سب سے زیادہ 1

جرمنی: تین دہائیوں میں مہنگائی کی شرح سب سے زیادہ

جرمنی میں افراط زر میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یورپی یونین کے دیگر ممالک کے عوام بھی بڑھتی مہنگائی سے پریشان ہیں۔

جرمنی کی نئے مخلوط حکومت میں وزیر خزانہ کی ذمہ داریاں سنبھالنے والے کرسچن لنڈر کا کہنا ہے کہ وہ یورو زون میں قرضے کی شرح کو کم کرنے اور حکومتی سرمایہ کاری بڑھانے پر زور ڈالیں گے تا کہ یورپی سنٹرل بینک افراط زر یا مہنگائی کا مقابلہ کر سکے۔

لنڈر نے ٹوئٹر پر اپنے یہ خیالات ایک ایسے وقت میں میں شیئر کیے ہیں جب تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق جرمنی میں اس وقت افراط زر گزشتہ تین دہائیوںکی ریکارڈ سطح پر ہے۔ لنڈر کے مطابق، ”بڑھتی مہنگائی خدشات کو جنم دے رہی ہے، ہم دیکھیں گے کہ کرنسی کی قدر میں گراوٹ وبا کے بعد صورت حال کیسی ہوتی ہے۔‘‘

کرسچن لنڈر کا تعلق کاروبار پسند فری ڈیموکریٹس سے ہے۔ یہ جماعت جرمنی کی نئی مخلوط حکومت میں ایک جونیئر پارٹنر ہیں۔ اس جماعت کے ساتھ جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اور گرین پارٹی اتحاد میں ہیں۔ حکومتی اتحاد کا کہنا ہے کہ نئی حکومت عام اشیاء کی قیمتیں بڑھانے کی پالیسی نہیں اپنائے گی۔ لنڈر کے مطابق نئی حکومت ٹیکس میں اضافہ نہیں کرے گی اور بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی کی جائے گی۔ لنڈر نے وعدہ کیا کہ حکومت کاربن مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں سے حاصل ہونے والی اضافی رقم کو عوام تک واپس پہنچائیں گی۔ ”یورپ اور جرمنی میں ہم حکومتی سرمایہ کاری کی حمایت کریں گے اور قرضوں کو محدود کرنے کوشش کریں گے۔ حکومتوں پر بھاری قرض یورپی مرکزی بینک کی جانب سے مہنگائی کا مقابلہ کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔‘‘

صرف جرمنی ہی نہیں یورپ کے کئی ممالک کو شدید مہنگائی کا سامنا ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق یورپ کی سالانہ افراط زر کی شرح چار اعشاریہ نو تک پہنچ گئی ہے جو کہ سن 1997 کے بعد سے سب سے زیادہ ریکارڈ کی جانے والی شرح ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ دنیا بھر میں کورونا وبا کے بحران میں کمی کے باعث کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بڑھتی مانگ کے باعث سپلائی چین بری طرح متاثر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں