g7-summit-plan-to-rival-china-adopted

دنیا کی 7 امیر ترین جمہوری طاقتیں چین کے اثر و رسوخ سے پریشان، اہم فیصلہ کر لیا

لندن: دنیا کی 7 امیر ترین جمہوری طاقتیں چین کے اثر و رسوخ سے پریشان ہو گئی ہیں، جی سیون اجلاس میں ان طاقتوں نے چین کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے اہم فیصلہ کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کی میزبانی میں G7 اجلاس جاری ہے، جس میں پہلے روز دنیا بھر میں انسداد کرونا ویکسین کی یکساں فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا، دنیا کی 7 طاقت ور جمہوری معیشتوں کے سربراہ برطانیہ میں اس لیے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں تاکہ کرونا وبا سے نمٹا جا سکے۔

تاہم، بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ہفتے کے روز سات امیر ترین جمہوری جماعتوں کے اس گروپ نے ترقی پذیر ممالک کو ایک انفرا اسٹرکچر منصوبہ پیش کر کے دراصل چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی ہے، اور یوں جی سیون چینی صدر شی جن پنگ کے ملٹی ٹریلین ڈالر ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ منصوبے کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اجلاس میں چین کا مقابلہ کرنے کے خواہاں جی 7 رہنماؤں نے بہتر انفرا اسٹرکچر کی تعمیر میں کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کی حمایت کرنے کا منصوبہ اپنا لیا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکی حمایت یافتہ منصوبہ ’بِلڈ بیک بِٹر ورلڈ (B3W)‘ چینی پروگرام کا اعلیٰ معیار کا متبادل بنے۔ چینی منصوبہ ’بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئٹو (BRI)‘ نے کئی ممالک میں ریل گاڑیوں، سڑکوں اور بندرگاہوں کی تعمیر میں مالی اعانت فراہم کی، تاہم اس پر اس حوالے سے تنقید کی جاتی رہی ہے کہ اس سے کچھ ممالک پر قرضوں کا بوجھ لد گیا ہے۔

کرونا وبا کے سلسلے میں برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اجلاس میں کہا کہ یہ اجلاس وبا سے سبق سیکھنے کا موقع ہے، اس کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

برطانیہ کے تفریحی مقام کارن وال میں اجلاس کے پہلے روز ملکہ برطانیہ نے سربراہان کے اعزاز میں استقبالیہ بھی دیا، جس میں پرنس ولیم اور کیٹ میڈلٹن نے بھی شرکت کی، استقبالیے کے بعد ملکہ برطانیہ نے سربراہان کے ساتھ تصویر بھی بنوائی۔

اسی دوران اجلاس کے باہر ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے آواز بھی اٹھائی جا رہی ہے، جی سیون سربراہان کو جھنجھوڑنے کے لیے کارن وال میں ماحولیاتی تبدیلی پر کام کرنے والے کارکنان کا احتجاج جاری ہے، کسی نے جی سیون رہنماؤں کا بھیس دھارا تو کسی نے دیوہیکل فلوٹ تیار کیے۔ ریلی نکالنے والے مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ طاقت ور ممالک کے سربراہان ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدام کریں۔

خیال رہے کہ جی سیون ممالک میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکا شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں