جرمنی میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کے باعث صوبہ ژاکسن دوبارہ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کرلیا 1

جرمنی میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کے باعث صوبہ ژاکسن دوبارہ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کرلیا

جرمنی میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کے باعث صوبہ ژاکسن دوبارہ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کرلیا جبکہ چوتھی لہرکی شدت کے پیش نظر کرسمس کی تمام مارکیٹیں بند اور بازاروں میں‌غیرویکسین شدہ افراد کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کی جارہی ہےایک مرتبہ پھر سرکاری دفاترکو آن لائن کیا جائےگا جرمنی میں گزشتہ ایک روز میں 65 ہزار سے زائد نئے کیسز ریکارڈ ہوئے اور 264 اموات رپورٹ ہوئیں جس ملک بھر میں کھلبلی مچل گئی صوبائی حکومتیں وفاقی حکومت کے ساتھ چوتھی لہر سےنمٹنے کی حکمت عملی مرتب کرنے کےلیے سرگرم عمل ھوگئے
کورونا کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر جرمن پارلیمنٹ نے کورونا کیخلاف نئی پابندیوں‌کے نفاذ کی منظوری دیدی ہے. جس کے تحت غیر ویکسین شدہ افراد اب کرسمس مارکیٹس اور ریسٹورنٹس میں نہیں جا سکیں گے . نئی پابندیوں کے تحت ملازمین کیلئے کورونا کی روزانہ کی بنیاد پر ٹیسٹک کی جائیگی.نئی قانون سازی کے تحت کورونا وائرس کے دستاویزات اور سرٹیفکیٹس کی جعل سازی پر پانچ برس تک قید کی سخت سزا ہوگی ۔ یاد رہے کہ جرمنی میں ویکسین کے جعلی سرٹیکفیٹ ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے.
کورونا کی چوتھی لہر پوری قوت کیساتھ جرمنی پر حملہ آور ہے،
جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے ملک میں کوویڈ 19 کی صورتحال کو “ڈرامائی” قرار دیا ہے جلدازجلد اس سے نمٹنے کے لیے سرگرم ہوگئی
گزشتہ روز ایک نجی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انجیلا مرکل نے کہا کہ کورونا کی چوتھی لہر ہمارے ملک کو پوری طاقت سے نشانہ بنا رہی ہے روزانہ کی بنیاد پر کورونا کیسز کی نئی ریکارڈ تعداد سامنے آرہی ہے۔ جبکہ اموات کی تعداد میں بھی خطرناک حد تک روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ فی الحال کویڈ ویکسین لگانے میں اتنی تاخیر نہیں ہوئی لہذا عوام جلد ازجلد کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوائیں.
وفاقی حکومت اور تمام صوبائی ریاستی رہنماؤں نے ہفتے ملک بھر میں ممکنہ نئی سخت پابندیوں کے نفاذ کے جائزہ کیلئے ایک اجلاس منعقد کررہے ہیں۔
جرمنی کے کئی ریاستوں اور شہروں نے پہلے ہی سخت پابندیاں اور لاک ڈاؤن نافذ کردیا ہے اور عوام سے کہا کہ وہ عوامی مقامات پر کورونا ویکسین کے سرٹیفکیٹ ضرور ساتھ رکھیں اور طلب کرنے پر پیش کریں.
جرمنی بھر میں کرسمس کی تقریبات اور مارکیٹ کیلئے کوویڈ کے قوانین کو مزید سخت کیا جارہا ہے۔ جبکہ میونخ میں کرسمس مارکیٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ادھر جرمنی میں کورونا وائرس کیسز میں اضافے پر ویکسین ایڈوائزری کمیٹی نے 18سال سے زائد عمر کے تمام افراد کیلئے کورونا ویکسین بوسٹر شاٹ کی سفارش کردی۔ کمیٹی کےمطابق کورونا ویکسین کا بوسٹر شاٹ آخری کورونا ویکسین خوراک کے 6 ماہ بعد لگایا جائے۔
یاد رہے کہ صرف جرمنی ہی نہیں آئرلینڈ، نیدرلینڈز، سلوواکیہ اور آسٹریا میں بھی کورونا کے نئے ریکارڈ کیسز یومیہ بنیاد پر رپورٹ ہورہے ہیں اور ان ممالک کی حکومتوں نے سخت پابندیاں عائد کردی ہیں.جبکہ آسٹریا میں‌مکمل لاک ڈاؤن کیلئے حکومت پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں