symptoms-and-precautions-of-angina

انجائنا کی علامات و احتیاطی تدابیر

ہمارے دل کو جب اکلیلی شریانوں سے کافی آکسیجن حاصل نہیں ہوتی تو انجائنا یعنی دردِ سینہ کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ درد عموماً پانچ سے پندرہ منٹ تک رہتا ہے اور اس کے دوران میں سینے کے وسط میں بھاری پن یا تنگی محسوس ہوتی ہے۔ یہ درد باذوؤں،گردن،جبڑے،پیٹھ یا معدے تک پہنچ سکتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کو انجائنا کا یہ درد صرف بازو، گردن،جبڑے یا معدے ہی میں محسوس ہوتا ہے

اکلیلی شریانوں کے اندر جب چکنائی جمع ہونے لگتی ہے تو وہ تمگ ہوجاتی ہیں اور ان کے ذریعے دل کو آکسیجن کی فراہمی کم ہوجاتی ہے، اس حالت کو سوزش یاتنگی شرائین کہاجاتا ہے۔کچھ دن بعد شریانوں میں اتنی تنگی آجاتی ہے کہ یہ دل کو بعض اوقات اس کی ضرورت کے مطابق آکسیجن ملاہوا خون فراہم نہیں کرپاتیں۔نتیجتاً جو بے چینی اور درد ہوتا ہے اسے دردِ سینہ کہتے ہیں۔

یہ کیفیت خصوصاً اُس وقت ہوتی ہے جب جسمانی محنت کا کوئی کا م کیا جائے یا ورزش کی جائے یا پھر جذباتی طور سے کوئی پریشانی ہو۔دردِ سینہ اکثر چلنے کے دوران میں ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی یہ اس وقت بھی ہوجاتاہے جب ہم آرام کررہے ہوں۔

یوں بھی ہوسکتا ہے کہ انجائنا کا درد ہمیں سوتے سے جگادے۔ جو لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں یا ان کا فشارِ خون یا خون میں کولیسٹرول زیادہ ہوتا ہے یا ورزش کم کرتے یاانھیں ذیابیطس ہو،وہ اس بیماری زد میں زیادہ رہتے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے بھی خطرہ زیادہ ہوتاہے جن کا وزن زیادہ ہو یاوہ مے نوشی کثرت سے کرتے ہوں یاپھر ان کے خاندان میں پینسٹھ سال کی عمر سے پہلے مرضِ قلب یادردِ سینہ کے مریض رہے ہوں۔

اگرکسی کو ایسا درد محسوس ہوجس کے بارے میں خیال ہو کہ یہ دردِ سینہ یا انجائنا کا درد ہے تو جوکام وہ کررہا ہے اسے چھوڑ کر ذرا آرام کرے اور درد یا بے چینی دور ہونے کا انتظار کرے۔اس بارے میں معالج سے مشور ضرور کریں تاکہ علاج اور دوا کا فیصلہ ہوسکے۔

بہت سے لوگوں کو ایسا درد جو ایک مقررہ حد سے زیادہ چلنے پھرنے یا ورزش کرنے سے شروع ہوجاتا ہے اور دوا سے اس پر قابو پالیا جاتا ہے۔ اسے قائم دردِ سینہ کا انجائنا کا دردکہتے ہیں۔ لیکن ذراسی ہل جل سے یا کام کے دوران میں بھی یہ دردہونے لگے توپھر یہ صورت غیر قائم دردِ سینہ کی ہوگی۔یہ صورت اکثر حملۂ قلب سے پہلے ہوتی ہے لہٰذا اس کی چھان بین اور علاج میں تاخیرنہیں ہونی چاہیے۔

ّْ جب لوگوں کو دردِسینہ یا انجائنا ہوتا ہے تو وہ اکثر خوف زدہ ہوجاتے ہیں کہ انھیں دل کا حملہ ہورہا ہے،لیکن حملۂ قلب دراصل اُس وقت ہوتا ہے کہ جب خون میں تھکا بن جانے سے شریان بند ہوجاتی ہے۔ اس صورت میں سینہ میں جودرد ہوتا ہے وہ زیادہ شدید ہوتا ہے اور عموماً آرام کرنے سے نہیں جاتا۔ دردِ سینہ کا علاج شروع میں دواؤں سے ہوتا ہے، لیکن بعض حالت میں جراحتوں سے کام لینا پڑتا ہے۔ البتہ درج ذیل باتیں ایسی ہیں جنھیں اختیار کرکےِ آپ دواؤں اور جراحتوں سے بچ سکتے ہیں۔نیز حملۂ قلب کو بھی ٹال سکتے ہیں۔

تمباکو نوشی بند کردیجیے:۔

اگر آپ تمباکو نوشی کرتے ہیں اور اسے ترک کردیں تواس کے پانچ سال کے اندر حملۂ قلب کا خطرہ اس وقت کے مقابلے میں جب آپ تمباکو نوشی کر رہے تھے آدھا رہ جائے گا۔

بلند فشارِ خون کو کم کیجیے:۔

جن لوگوں کودردِ سینہ کی شکایت ہو انھیں چاہیے کہ اپنا بلڈ پریشر پچاسی؍ایک سو چالیس رکھنے کی کوشش کریں۔اکچر یہ مقصد وزن گھٹانے،ورزش کرنے اورالکحل اور نمک کے استعمال میں کمی سے حاصل ہوجاتا ہے۔ تاہم زیادہ تر لوگوں کو بلند فشارِ خون میں کمی کرنے کے لیے گولیاں کھانا پڑتی ہیں۔

صحت بخش غذا کھائیے:۔

ہفتے میں دو تین بار روغنی مچھلی ضرور کھائیے۔دن میں پانچ بار تھوڑے تھوڑے پھل اور سبزی کھائیے تو مرض قلب سے محفوظ رہنے میں مدد ملے گی۔

اپنا وزن درست رکھیے:۔

اپنے وزن کو بڑھنے سے روکیے۔ اس طرح آپ کو بلڈ پریشر پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔انجائنا کے مریضوں کے لیے ورزش اہم ہے،لیکن یہ اتنا ہی ہونا چاہیے کہ سانس پھولے نہ درد ہو۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں