اومی کرون ماضی کے مقابلے میں‌ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، ڈبلیو ایچ او 1

اومی کرون ماضی کے مقابلے میں‌ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، ڈبلیو ایچ او

جینیوا: عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈھانوم نے انکشاف کیا کہ اومی کرون ماضی میں سامنے آنے والی اقسام کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے منگل کے روز اومی کرون کی تازہ صورت حال کے حوالے سے میڈیا کو دی جانے والی بریفنگ میں بتایا کہ اب تک 77 ممالک میں کرونا کی نئی قسم کے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں

انہوں نے انکشاف کیا کہ اومی کرون ماضی میں سامنے آنے والی اقسام کے مقابلے میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔

ٹیڈروس کا کہنا تھا کہ اومی کرون کا پہلا کیس گزشتہ ماہ جنوبی افریقا میں رپورٹ ہوا، جس پر عالمی ادارہ صحت نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تمام ممالک کو سخت اقدامات کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

سربراہ ڈبلیو ایچ او نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اومی کرون کی علامات سنگین نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اسے معمولی سمجھ رہے ہیں، اگر ایک بار صورت حال خراب ہوئی تو شعبہ صحت کو سنبھالنا بہت مشکل ہوجائے گا۔

ڈبلیو ایچ او نے تمام ممالک کو احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد کروانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اومی کرون سے بچاؤ کے لیے ویکسین ، فیس ماسک، سماجی فاصلے اور ہاتھوں کو بار بار دھونا لازمی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ ممالک نے بوسٹر ویکسین  مہم شروع کی جو کچھ ملکوں کے لیے عدم مساوات کا باعث بن سکتی ہے، جیس کی نظیر ہمیں ماضی میں بھی ملی ہے، ہمیں کرونا کے خاتمے کے لیے تمام ممالک کو سہولیات فراہم کرنا ہوں گی۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں