hyperactivity-disorder

بچّوں‌ میں ارتکازِ توجہ کے مسئلے کو نظر انداز نہ کریں

دنیا میں کم سے کم ایک کروڑ افراد توجّہ کی کمی کے مرض میں مبتلا ہیں۔ عالمی ادارہ صحّت کے ماہرین کے مطابق خاص طور پر والدین کو اکثر اپنے بچّوں کے حوالے سے شکایت رہتی ہے کہ وہ گھر یا اسکول میں کسی بات پر توجّہ نہیں دے پاتے۔ ماہرین کے مطابق یہ اکثر اے ڈی ایچ ڈی (Attention-Deficit/Hyperactivity Disorder) کے سبب پیدا ہونے والا مسئلہ ہوتا ہے جو ایک عام ذہنی خرابی ہے۔

یہ بچپن سے نوجوانی تک متاثر کرنے والی بیماری ہے جس میں مبتلا بچّے کسی بات پر توجّہ مرکوز نہیں کرپاتے اور انھیں‌ خاص طور پر اسکول میں اور گھر میں بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے بچّے کوشش کے باوجود توجّہ کے ارتکاز میں ناکام رہتے ہیں۔ یہی نہیں‌ بلکہ یہ بہت زیادہ متحرک اور اصطراب کا شکار نظر آتے ہیں یا ہائپر ایکٹیوٹی ڈس آرڈر کا شکار ہوتے ہیں۔

اس مرض سے متاثرہ بالغ افراد میں وقت پر کام کرنے، اہداف کا تعین اور منظّم طریقے سے کام کو انجام دینے میں مسائل پیش آتے ہیں۔

اس ذہنی پیچیدگی کی عام وجوہات موروثی، ماحولیاتی یا جینیاتی عوامل شامل ہیں۔ اس کی عام علامات میں‌ سب سے واضح توجّہ میں کمی اور زیادہ متحرک ہونا شامل ہے۔ ایسے بچّے بے توجہی اور بھولنے کے مسئلے کا سامنا کرتے ہیں۔ وہ بے چین اور بہت زیادہ اچھل کود کے علاوہ بہت زیادہ بولتے ہیں۔

لڑکے اور لڑکیوں میں اس بیماری کی علامات مختلف ہوسکتی ہیں یا یوں کہہ لیں کہ وہ کچھ مختلف ردعمل ظاہر کرسکتے ہیں۔ سات سال سے پہلے اس مسئلے کی علامات بچّوں میں‌ ظاہر ہوسکتی ہیں۔ اے ڈی ایچ ڈی کی شدّت کم کرنے کے لیے بچّوں کو ادویات اور سائیکو تھراپی تجویز کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کا طرزِ عمل اور رویّوں کو بدلنے کے لیے کچھ مشقوں‌ کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں‌ کسی ماہرِ نفسیات کا مشورہ ضروری ہے۔

یہ معالج بچّے میں ارتکازِ توجہ، اسے پُرسکون رہنے اور معمول کے مطابق سرگرمیاں‌ انجام دینے میں‌ مدد دے سکتا ہے۔ تھراپی اور ہدایات کی مدد سے بچّوں کو اپنے رویّے پر قابو کرنا سکھایا جاسکتا ہے اور کوئی ماہر معالج بچّے کی ذہنی حالت کی جانچ کے بعد ہی اس کا علاج شروع کرتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں