corona-vaccine-registration-in-pakistan

کووڈ 19: پاکستان میں ویکسینیشن کا عمل کس طرح انجام پارہا ہے، جانیے

پاکستان میں مرحلہ وار کووڈ 19 کی ویکسینیشن جاری ہے۔ ملک بھر میں اضلاع اور تحصیل کی سطح پر مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں مفت ویکسین لگائی جا رہی ہے، لیکن ویکسینیشن سے متعلق لوگ خدشات کا شکار بھی ہیں۔

ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں ہر عمر اور طبقے سے تعلق رکھنے والے، ناخواندہ اور تعلیم یافتہ افراد بھی ویکسینیشن کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کررہے ہیں جس کا سبب ویکسین اور ویکسینیشن سے متعلق بعض افواہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والی غیرمصدقہ خبریں، غیر مستند مواد اور نامکمل یا ادھوری معلومات ہیں۔ تاہم متعلقہ حکومتی ادارے، سائنس داں اور مستند ڈاکٹر اس عمل کو محفوظ اور مؤثر قرار دیتے ہیں۔

یہاں ہم آپ کو ویکسینیشن کے بارے میں بنیادی اور ضروری معلومات فراہم کررہے ہیں۔

پاکستان میں ویکسینیشن کا نظام اور طریقہ کار کیا ہے؟

کرونا کا پھیلاؤ روکنے اور ہر فرد کو اس سے محفوظ رکھنے کے لیے مفت ویکسین لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔

کرونا ویکسین کی رجسٹریشن اور اس کے انتظام کی نگرانی نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کررہا ہے اور اس کے لیے ایک باقاعدہ نظام وضع کیا گیا ہے۔ ویکسینیشن کے لیے رجسٹریشن اسی نظام کے تحت ایک طریقۂ کار کے مطابق کی جارہی ہے۔

یہ بات ذہن نشیں رکھیے!

دنیا بھر میں سائنس داں امراض کی ادویّہ اور ویکسین کی تیّاری کے بعد اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ یہ مرض کے خلاف مؤثر اور انسانی جسم کے لیے محفوظ بھی ہوں۔ اس کے لیے ماہرین لیبارٹری کی سطح پر تجربات کرتے ہیں اور سب سے پہلے جانوروں یا انسانی خلیوں پر کسی بھی دوا کا اثر دیکھا جاتا ہے۔ اس کے مؤثر اور مثبت نتائج سامنے آنے کے بعد ہی کوئی دوا انسانوں پر استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

کووڈ 19 کی ویکسین لگوانا کیوں‌ ضروری ہے؟

یہ ایک وبائی مرض ہے جو پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جہاں احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ضروری ہے جن میں اجتماعات اور میل جول سے گریز، ماسک کا استعمال شامل ہے، وہیں ویکسین لگانے سے اس وائرس سے محفوظ رہنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

خصوصی مراکز پر ویکسینیشن کا عمل کیسے انجام دیا جارہا ہے؟

کرونا ویکسین سرنج(ٹیکے) کی مدد سے بازو پر لگائی جاتی ہے۔ مستند ڈاکٹر کی نگرانی میں ویکسینیشن سینٹروں پر ماہر طبّی عملہ یہ کام انجام دیتا ہے۔ یہ عمل چند ہفتوں کے وقفے سے دہرایا جاتا ہے۔ ویکسین کی پہلی ڈوز لینے والے کو متعلقہ عملہ یہ بتا دیتا ہے کہ اسے اگلی ڈوز کس تاریخ کو لگوانی ہے۔

ویکسینیشن سے قبل کون سی باتیں متعلقہ عملے کو ضرور بتانا چاہییں؟

آپ کو شدید الرجی ہو یا آپ کسی دوسرے خطرناک مرض میں مبتلا ہوں، جیسے ذیابیطس، گردے یا جگر کی خرابی، یا حال ہی میں‌ کوئی بڑا آپریشن اور سرجری وغیرہ کروائی ہو۔ عورت اگر حاملہ ہو یا کوئی بھی فرد جسے شدید بخار ہو، اس کے علاوہ وہ افراد جو کرونا کا شکار ہوچکے ہیں، ان سب کو چاہیے کہ ویکسین لگوانے سے پہلے اس بارے میں طبّی عملے کو آگاہ کریں۔

کیا ویکسینیشن کے بعد کسی قسم کا طبّی مسئلہ یا کوئی جسمانی تکلیف لاحق ہوسکتی ہے؟

یہ ایک عام بات ہے کہ آپ کو ویکسینیشن کے بعد بازو پر معمولی درد اور اس کی وجہ سے بے چینی کا احساس ہوگا۔ طبّی ماہرین کے مطابق تھکن، سَر یا جسم میں درد کے علاوہ کچھ لوگوں کو بخار بھی ہوسکتا ہے، لیکن یہ کیفیت جلد دور ہوجاتی ہے۔ اگر آپ کو غیرمعمولی تکلیف اور شدید بخار کی شکایت ہو تو فوراً کسی مستند معالج سے رجوع کریں یا کسی بھی قریبی ویکسینیشن سینٹر کو اس سے آگاہ کریں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں