corona-vaccination-02-doses-delta-variant

کورنا ویکسین کی دو خوراکیں کیوں ضروری ہیں ؟؟ وجہ سامنے آگئی

کورنا ویکسین کے نتائج پر تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں پیدا ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم “ڈیلٹا” سے تحفظ ممکن ہے لیکن اس کیلئے ویکسی نیشن پر مکمل عمل درآمد لازمی ہے۔

کورونا وائرس کی نئی قسم ڈیلٹا (جو سب سے پہلے بھارت میں نمودار ہوئی تھی) بہت تیزی سے دنیا بھر میں پھیل رہی ہے اور اس میں موجود میوٹیشنز نے اسے بہت زیادہ متعدی بنادیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ویکسنیشن کی شرح میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

فرانس میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دریافت کیا گیا ہے کہ ڈیلٹا میں ایسی میوٹیشنز موجود ہیں جو قدرتی بیماری یا ویکسینز سے بننے والی وائرس کو ناکارہ بنانے اینٹی باڈیز پر کسی حد تک حملہ آور ہوسکتی ہیں۔ سنگل یا 2 ڈوز والی ویکسین سے بمشکل ہی تحفظ ملتا ہے۔

مگر طبی جریدے نیچر میں شائع تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ فائزر یا ایسٹرازینیکا ویکسینز کی مکمل ویکسینیشن کرانے والے افراد کو ڈیلٹا قسم کے خلاف نمایاں تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ یہ نتائج 7 جولائی کو ایک اور طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع تحقیق کے نتائج سے مماثلت رکھتے ہیں۔

اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ ویکسنیشن مکمل کرانا ڈیلٹا قسم کے خلاف جزوی ویکسینیشن کے مقابلے میں زیادہ تحفظ فراہم کرتا ہے۔ فرانس کے پیسٹور انسٹیٹوٹ کی اس تحقیق میں کہا گیا کہ ویکسینیشن مکمل کرانا انتہائی ضروری ہے۔

تحقیق میں لیبارٹری ٹیسٹوں کے دوران فائزر یا ایسٹرازینیکا ویکسینز کی پہلی خوراک استعمال کرنے والے درجنوں افراد کے خون کے نمونوں کی جانچ پڑتال کے دوران دریافت کیا گیا کہ ان میں ڈیلٹا کو جکڑنے کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے۔

تاہم دوسری خوراک استعمال کرنے کے چند ہفتوں میں محققین نے افراد میں مدافعتی ردعمل کو اتنا مضبوط ہوتے دیکھا جو ڈیلٹا قسم کو ناکارہ بنانے کے لیے کافی تھا۔

محققین نے ویکسین استعمال نہ کرنے والے ایسے افراد کو بھی تحقیق کا حصہ بنایا جو کووڈ کا شکار ہوچکے تھے اور دریافت کیا گیا کہ قدرتی بیماری سے وائرس کے خلاف بننے والی اینٹی بڈیز ڈیلٹا کی میوٹیشنز کے خلاف 4 گنا کم طاقتور تھیں۔

تاہم ان افراد میں ویکسین کی ایک خوراک سے اینٹی باڈیز کی سطح میں ڈرامائی اضافہ ہو جس سے ڈیلٹا اور دیگر 2 اقسام کے خلاف تحفظ کی سطح بڑھ گئی۔

تحقیق میں کہا گیا کہ ڈیلٹا قسم میں موجود میوٹیشنز ویکسنیز کے خلاف بہت زیادہ مزاحمت نہیں کرتیں، مگر ضروری ہے کہ دنیا بھر کی آبادی میں ویکسنیشن کی شرح بڑھائی جائے تاکہ وائرس مزید طاقتور نہ ہوسکے۔

اس سے قبل برطانیہ میں محققین نے دریافت کیا تھا کہ فائزر ویکسین کی 2 خوراکوں سے ڈیلٹا قسم سے ہسپتال میں داخلے کا خطرہ 96 فیصد جبکہ علامات والی بیماری کا امکان 88 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیل میں کی جانے والی ایک حالیہ تحقیق میں بھی دریافت کیا گیا ہے کہ فائزر ویکسین سے ملنے والا تحفظ ڈیلٹا کے خلاف گھٹ کر 64 فیصد تک رہ جاتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں